The news is by your side.

Advertisement

راہول گاندھی کانگریس سربراہ کی حیثیت سے مستعفیٰ

نئی دہلی: بھارت کی سابق حکمراں جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے لوک سبھا کے انتخابات میں تاریخی شکست کے بعد پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’کانگریس کی قیادت کرنا میرے لیے اعزاز کا باعث ہے، ہماری جماعت کے اقدار اور نظریات ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں ملک ، عوام اور پارٹی کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس کی قیادت میرے سپرد کی تھی البتہ میں اچھے طریقے سے کام نہیں کرسکا۔ راہول نے اپنے استعفے میں وضاحت پیش کی کہ ’’میں کانگریس مین کی حیثیت سے پیدا ہوا اور جس طرح آج میں جماعت کے ساتھ ہوں میرا آخری دن بھی اُسی طرح گزرے گا‘‘۔

مزید پڑھیں: انتخابات میں شکست، گانگریس میں شدید بحران، راہول گاندھی استعفے کے اعلان پر ڈٹ‌گئے

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راہول گاندھی نے اپنے فیصلے کے حوالے سے پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا تاہم کچھ دوستوں سے ذکر کیا تھا کہ اب کانگریس کو ایک نئے سربراہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ پارٹی آئین و قانون کے مطابق گانگریس کی ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کو ہنگامی اجلاس بلا کر فوری قائم مقام صدر کا انتخاب کرنا ہوگا جس کے بعد ووٹنگ سے مستقبل سربراہ کا چناؤ ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت قائم کی، راہول گاندھی نے الیکشن میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ اب اُن کا استعفیٰ منظور کرلیا جائے کیونکہ انہیں مودی سے دو بار شکست ہوچکی۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس نے شکست تسلیم کر لی، راہول گاندھی کی نریندر مودی کو مبارک باد

دوسری جانب کانگریس پارٹی کے عہدیدار اور کارکنان راہول گاندھی کو پارٹی کے سربراہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، مستعفیٰ ہونے کے اعلان کے بعد راہول گاندھی کی رہائش گاہ پر کارکنان کی بڑی تعداد پہنچی اور اُن سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں