site
stats
پاکستان

ریلوے کی بہتری کے لیے 30 ارب اور 15 برس درکار ہیں، خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی مکمل اپ گریڈیشن کے لیے تیس ارب ڈالر اور پندرہ برس کا عرصہ درکار ہے، چین نے کراچی سرکلر ریلوے سمیت کوئٹہ اور پشاور ماس ٹرانزٹ منصوبوں کو ٹرانسپورٹ ورکنگ گروپ کے حوالے کردیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلویز کے تین اہم منصوبے کراچی سرکلر، پشاور اور کوئٹہ سرکلر  ماس ٹرانزٹ کو سی پیک منصوبے میں شامل کرلیا گیا، تینوں منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری چین جبکہ تکنیکی معاونت پاکستان ریلویز فراہم کرے گا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پشاور ماس ٹرانزٹ منصوبہ پشاور سے نوشہرہ، مردان اور چارسدہ پر مشتمل ہوگا جبکہ ایل ون منصوبے پر چین کے ساتھ معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں، انہوں نے بتایا کہ مراد علی شاہ کی آمد کے بعد سندھ حکومت نے کراچی سرکلر منصوبے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ سندھ حکومت کو تجویز دی ہے کہ کراچی سرکلر منصوبے کو دھابیجی تک توسیع دی جائے تاہم یہ فیصلہ 6 ماہ بعد جے سی سی آئی کے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا، جبکہ پاکستان ریلوے اس معاملے میں سندھ حکومت کو مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سی پیک اچھا منصوبہ ہے لیکن صرف اسی منصوبے پر اکتفا مناسب نہیں، چین مدد گار ثابت ہوا لیکن سارا بوجھ چین کے کاندھوں پر نہیں ڈالا جا سکتاتاہم جتنا بوجھ ڈال سکتے تھے ڈال دیا جبکہ اب کچھ بوجھ خود بھی اٹھانا ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے اسلام آباد تا مری و مظفر آباد منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، اس منصوبے پر ایک سو پچھتر ارب روپے لاگت آئیگی اور یہ منصوبہ وزیر اعظم کی خواہش پر شروع کیا جارہا ہے۔

تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کام کرنے کے لیے دیا ہے ، جب آئندہ الیکشن کا اعلان ہوگا سیاسی لڑاٹی اُس وقت لڑی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top