The news is by your side.

ریلوے نے کرایوں میں اضافے کی وجہ بتا دی

کراچی: پاکستان ریلویز نے نئے اضافہ شدہ کرایوں کا اطلاق کر دیا، محکمہ ریلوے کا کہنا ہے کہ اسے تنخواہوں کی مد میں خطیر رقم کی کمی کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ ریلوے نے کہا ہے کہ اسے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 1 سے ڈیڑھ ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، محدود ٹرین آپریشن اور مالی بحران کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ کیا گیا۔

ادھر ریلوے نے ٹرین آپریشن شروع کر دیا ہے، محکمے کے مطابق اکانومی کلاس کے کرائے میں 23 فی صد جب کہ اے سی کلاس کے کرائے میں 19 فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

کراچی ایکسپریس کی اکانومی کلاس کا کرایہ 2350 سے بڑھا کر3000 روپے، اے سی بزنس 7000، اے سی اسٹینڈرڈ 5000، اے سی سلیپر کا کرایہ 9000 کر دیا گیا ہے۔

ریلوے کے اکانومی کلاس کا کرایہ بھی ہزاروں روپے کردیا گیا

نوٹیفیکیشن کے مطابق قراقرم ایکسپریس کی اکانومی کلاس کا کرایہ 3000 اور اے سی بزنس کا 7000 روپے کر دیا گیا ہے۔

پاک بزنس ایکسپریس کی اکانومی کلاس کا کرایہ بڑھا کر 3000 روپے، اے سی اسٹینڈرڈ کلاس کا کرایہ بڑھا کر 5000 روپے، اے سی بزنس کا کرایہ 7000 کر دیا گیا ہے۔

رحمان بابا ایکسپریس کی بزنس کلاس کا 9000، اے سی اسٹینڈرڈ کا کرایہ 8000، اکانومی کلاس کا کرایہ 3000 مقرر کیا گیا ہے، خیبر میل اے سی سلیپر کا کرایہ 11000، اے سی بزنس 8000، اے سی اسٹینڈرڈ 7000 اور اکانومی کا کرایہ 3000 کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ریلوے نے رواں سال جون میں بھی مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 20 فی صد اضافہ کیا تھا۔ خیبر میل ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس پہلے روہڑی اور پشاور تک چلائی جا رہی تھیں۔

محکمہ ریلوے نے 5 اکتوبر سے مزید 3 ٹرینیں کراچی ایکسپریس، قراقرم ایکسپریس اور پاک بزنس ایکسپریس لاہور اور کراچی کے درمیان چلانے کا اعلان کیا ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے پانچوں ٹرینوں میں بوگیوں کی تعداد 19 تک بڑھائی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں