The news is by your side.

بارشوں سے ملک بھر میں تباہی جاری، مزید 15 افراد جاں بحق، بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع

بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 12 گھنٹوں میں بچوں، خواتین سمیت مزید 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق بلوچستان، سندھ اور پنجاب اور کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے تباہی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور دریاؤں میں سیلابی صورتحال سے مزید کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

بارشوں سے سب سے زیادہ تباہ حال صوبہ بلوچستان کا زمینی رابطہ ملک بھر سے منقطع ہوچکا ہے اور وہاں اب تک 18 پل ٹوٹ چکے ہیں۔ جعفر آباد کے علاقے گندا خاکے کے نواحی گاؤں میں گھر کی چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں تین بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے موضع ترکی سیاہ آف میں بھی کچے مکان کی چھت گرگئی، پولیس کے مطابق چھت کے ملبے میں دب کر خاتون اور بچے سمیت تین افراد جان سے گئے۔

کوہلو میں بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بہہ جانے سے کوہلو کا سندھ سمیت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ فورٹ منرو میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئ ہے اور کوہلو سبی شاہراہ کے مختلف حصے ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ بلوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مرنے والوں کی تعداد 210 سے زائد ہوچکی ہے۔ چاغی، دالبندین اور مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

سندھ کے شہر خیرپور میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے رات گئے بارش کے باعث شادی شہید کے علاقے میں گھر کی چھت گرگئی، پولیس کے مطابق مکان کے ملبے تلے دب کر دو بچوں سمیت چار افراد جاں بحق جب کہ دو زخمی ہوگئے۔ مجموعی طور پر گھروں کی چھتیں گرنے سے 9 افراد جاں بحق جب کہ دو افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ لاڑکانہ میں چھت گرنے سے بچی اور دو خواتین جان سے گئیں، تین زخمی ہوگئے جنہیں چانڈکا اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، سکھر، ٹھٹھہ سمیت دیگر علاقوں میں برساتی پانی آبادیوں میں تاحال جمع ہے اور لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ میں حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 30 سے زائد ہوگئی ہے۔

راجن پور میں گزشتہ 5 روز سے شہر اور گرد ونواح میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سیلابی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوچکی ہے۔ کوہ سلیمان سے آنیوالا سیلابی پانی فاضل پور شہر میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ریلوے کالونی میں گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگ چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ روز برساتی نالے چھاچھڑ سے نکلنے والا 70 ہزار کیوسک اور نالا کاہا سلطان کا 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا بھی آج فاضل پور پہنچے گا۔ سیلابی پانی سے شہر کو بچانے کیلیے ضلع انتظامیہ نے قادرہ کینال کو کٹ لگا دیا ہے جب کہ روجھان کے درجنوں دیہات میں سیلابی پانی داخل ہونا شروع ہوگیا ہے۔

سانگھڑ میں سرہاری شاہ پورچاکر روڈ پر سیم نالے میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے باعث وسیع علاقہ زیر آب اور پانی گھوٹھ علی گل کھوسو میں داخل ہوگیا ہے جس کے باعث علاقے کے رہائشیوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جب کہ بڑھتے پانی کے باعث متعدد بھٹے، گوٹھ مسو ڈاہری، خمیسو جلبانی، حمید ڈاہری بھی زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔

دریائے سندھ کوٹ مٹھن کے مقام پر حفاظتی مشوری بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی نواحی علاقے بستی لغاری کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں