site
stats
صحت

بارشوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کر کے حادثات سے بچیں

کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ محکمہ موسمیات نے کراچی، حیدر آباد اور میرپور خاص میں اربن فلڈ (سیلاب) کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔

ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں بچائی جائیں اور مالی نقصان کی شدت کو بھی کم سے کم کیا جائے۔


بارش سے قبل

آج کل کے تیز رفتار دور میں یہ ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر (یا دن میں کئی بار) خبر نامہ دیکھے تاکہ شہر یا ملک میں ہونے والی تمام سیاسی و دیگر خبروں سے باخبر رہیں۔

بارش کے علاوہ بھی آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ کہیں شہر کے سیاسی حالات خراب تو نہیں، ٹریفک جام ہے یا کہیں پر احتجاج متوقع ہے۔

روزانہ گھر سے نکلنے سے پہلے سیاسی و شہری حالات اور موسم سے متعلق آگاہی ضرور حاصل کریں۔

کراچی میں بارش کی پیشن گوئی 2 روز قبل کی جاچکی ہے۔ آنے والے متوقع حالات کے پیش نظر آپ کو مکمل طور پر تیار رہنا چاہیئے۔

کسی ہنگامی صورتحال پیش آنے کی صورت میں گھر میں ایک معقول رقم ایسی جگہ رکھیں جو فوراً قابل دسترس ہو۔

موبائل فونز، چارجنگ لائٹس، چارجنگ پنکھے، وغیرہ مکمل چارج کر کے رکھ دیں۔

گھر میں کم از کم ایک ہفتے کی اشیائے ضرورت پھل، سبزی، دودھ، انڈے وغیرہ لا کر رکھ دیں۔

اگر گھر میں کوئی مریض موجود ہے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کے زیر استعمال تمام ادویات کا وافر اسٹاک موجود رہے۔

گھر کا کوئی حصہ ایسا ہے جسے مرمت کی ضرورت ہے تو اسے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کروائیں۔ یاد رکھیں بارش اور طوفان کے موقع پر سب سے زیادہ خطرہ گھر کے انہی کمزور حصوں سے ہوتا ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے ٹوٹتے یا نقصان پہنچاتے ہیں۔

خراب یا کرنٹ دینے والے بجلی کے بورڈز کو بھی درست کروائیں کیونکہ نمی آجانے کی صورت میں یہ مزید جان لیوا بن سکتے ہیں۔

گاڑی میں کوئی خرابی ہے تو اسے بھی درست کروائیں اور پیٹرول کی وافر مقدار بھی موجود رکھیں۔

برقی آلات، پانی کی موٹریں اور جنریٹرز وغیرہ کو کسی شے سے ڈھانپ دیں۔


بارش کے دوران

بارشوں کے دنوں میں غیر ضروری سرگرمیوں کو ترک کرکے گھر میں رہنے کو ترجیح دیں۔

دفاتر جانے والے افراد اپنے ساتھ اضافی پیٹرول، پانی، ٹارچ، ماچس اور فرسٹ ایڈ باکس پلاسٹک کے بیگ میں ساتھ رکھیں۔

گھر میں ایک اضافی موبائل بمعہ کریڈٹ بھی رکھا کریں جو ایسے مواقعوں پر کام آسکتا ہے جب آپ کا روزمرہ استعمال کیا جانے والا موبائل کسی وجہ سے کام نہ کرے۔

برساتی نالوں اور نکاسی آب کے راستوں میں ہرگز کوڑا نہ پھینکیں۔

زیر تعمیر عمارت میں رہائش یا اس کے قریب سے گزرنے سے گریز کریں۔

بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔ انہیں چھونے کی حماقت ہرگز نہ کریں۔

بجلی کے زمین پر گرے ہوئے تاروں پر خود گزرنے یا گاڑی کو گزارنے سے بھی پرہیز کریں۔

کھمبوں کے قریب کھڑے ہوئے پانی میں بھی بعض اوقات کرنٹ ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے بچ کر گزریں۔

درختوں اور سائن بورڈز کے قریب بھی نہ کھڑے ہوں۔

اگر بارش کا پانی گھر میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے تو برقی آلات اور قیمتی سامان کو بالائی منزل پر پہنچا دیں۔

بارش کے دوران یا بعد میں نالوں یا دریاؤں میں نہانے سے گریز کریں۔

بچوں کا خاص دھیان رکھیں، گرج چمک کے موقع پر انہیں کھلی جگہ نہ کھڑا ہونے دیں، بجلی کی تاروں اور ساکٹس سے دور رکھیں۔


گاڑی چلانے والے افراد کے لیے احتیاط

ایک چیف ٹریفک پولیس افسر کے مطابق بارشوں میں گاڑی چلاتے ہوئے رفتار دھیمی رکھیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جاسکے۔

خصوصاً پانی میں گاڑی چلاتے ہوئے نہایت دھیما چلیں کیونکہ اگر سڑک پر کوئی گڑھا یا مین ہول کھلا ہوگا تو تیز رفتاری کے باعث آپ بری طرح اس میں پھنس سکتے ہیں۔ دھیمی رفتار کسی حد تک آپ کو بچا سکتی ہے۔

ان کے مطابق گہرے پانی سے گزرنے کے بعد گاڑی کو کھڑا کر کے 4، 5 دفعہ بریکیں لگائیں تاکہ بریکس خشک ہوجائیں۔

کھڑے پانی میں اگر گاڑی پھسلنے لگے تو ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹا لیں، ایسے موقع پر اسٹیئرنگ کو مخالف سمت گھمانے سے گریز کریں۔

ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے ہر لمحہ موسم کی صورتحال سے با خبر رہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top