The news is by your side.

اندرون سندھ بارشوں سے زندگی کا پہیہ جام، دادو میں طوفانی بارش کے خاتمے کے لیے اذانیں

کراچی: اندرون سندھ بارشوں سے زندگی کا پہیہ جام ہو گیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے لاڑکانہ میں آج بھی تعلیمی اداروں کی چھٹی کا اعلان کر دیا، دادو میں طوفانی بارشوں کے خاتمے کے لیے مسجدوں میں اذانیں دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق گھوٹکی کے قریب دریائے سندھ کا حفاظتی شینک بند ٹوٹ گیا، علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے اور پانی لوپ بند کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

حیدرآباد میں بادل برسنے سے نشیبی علاقے ڈوب گئے، انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مسلسل بارش نے ٹنڈو محمد خان کو بھی تالاب بنا دیا، تجارتی مراکز ڈوب گئے، 200 سے زائد دیہات زیر آب آ گئ ہیں، جیکب آباد میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، سڑکیں نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں۔

سانگھڑ کے کئی علاقوں میں کئی فٹ تک پانی جمع ہے، ٹھٹھہ، مکلی، گھارو، میرپور ساکرو میں طوفانی بارش ہوئی، شکارپور کے نشیبی علاقے تالاب بن گئے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سکھر میں بھی نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے، باغات اور فصلوں کو بارش اور سیلابی پانی سے نقصان پہنچا ہے، نواب شاہ کی لیاقت مارکیٹ، موہنی بازار، موبائل مارکیٹ زیر آب آ گئے۔

مختلف علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے مکانات گرنے سمیت دیگر حادثات رونما ہوئے، جن میں 2 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے ہیں، موہن جودڑو کے آثار قدیمہ کو بھی بارشوں سے نقصان کا خطرہ لاحق ہق گیا ہے، آثار کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہو گیا جس کی وجہ سے موہن جو دڑو کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

دادو شہر اور گرد و نواح میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی ہے، جانی اور مالی نقصانات سامنے آئے، دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق، دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہو گئے، بدھ کی شام سے شروع ہونے والی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، سڑکیں تاالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، دادو میں مجموعی طور 50 گھروں کو نقصان پہنچا، شہر اور گرد و نوح میں جاری طوفانی بارش کے خاتمے کے لیے اذانیں بھی دی گئیں، اور مساجد میں خصوصی دعائیں کی گئیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں