The news is by your side.

Advertisement

راجا دین دیال: متحدہ ہندوستان کا ماہر فوٹو گرافر

فوٹو گرافی ایک آرٹ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب متحدہ ہندستان میں‌ کیمرے کا تصوّر تک نہ تھا اور مناظرِ فطرت ہوں یا پورٹریٹ کے لیے لوگ مصوّر کے محتاج ہوتے تھے۔

کیمرا ایجاد ہوا تو تصویر کھینچنا آسان ہو گیا، لیکن اس زمانے میں‌ یہ مشین اور ٹیکنالوجی بہت محدود تھی۔ اس وقت کیمروں سے تصویر بنانا اور پھر ان کی ڈویلپنگ کا عمل خاصا محنت اور وقت طلب ہوتا تھا۔ کیمرے کیا تھے، ایک بڑا سا ڈبّا ہوتا تھا، جس سے تصویر کشی کے وقت ایک مخصوص آواز کے ساتھ تیز روشنی آنکھوں‌ پر پڑتی تھی۔ کئی دن انتظار کے بعد موٹے سے مخصوص کاغذ پر تصویر (عکس) ہاتھ میں‌ آتی تھی۔

اس ایجاد کے حوالے سے کچھ ترقّی ہوئی تو باقاعدہ رِیل والے کیمرے آگئے جن میں مخصوص تعداد میں تصاویر اتارنے کے بعد انھیں‌ اکٹھا دھلوانے کی سہولت ہوگئی۔ یہ تصاویر رنگ و نور کے توازن کے ساتھ نسبتاً صاف ہوتی تھیں۔ اس کے بعد ڈیجیٹل کیمروں کا دور آیا اور آج موبائل فونز نے گویا سب کچھ بدل کر دیا ہے۔ اب ہر شخص فوٹو گرافر ہے، مگر پروفیشنل فوٹو گرافی ایک الگ بات ہے اور کی آج بھی بہت اہمیت ہے۔

راجا دین دیال کا نام بہت کم لوگوں نے سنا ہو گا جو متحدہ ہندوستان کے ایک پروفیشنل فوٹو گرافر تھے۔

وہ 1844ء میں‌ میرٹھ کے علاقے سردھنا کے ایک صرّاف خاندان میں پیدا ہوئے۔ تاہم خاندانی پیشہ اپنانے کے بجائے انجینئرنگ کی تعلیم اور فنّی تربیت کے حصول کے لیے کالج میں‌ داخلہ لیا۔ 1866ء میں‌ تعلیم مکمل کی اور اندور شہر کے ڈپارٹمنٹ آف ورکس، سیکریٹریٹ آفس میں ملازم ہوگئے۔

اس زمانے میں‌ ہندوستان میں‌ اکثریت کیمرے سے نامانوس اور یہ ان کے لیے ایک کرشماتی مشین تھی، لیکن فنّی تعلیم سے بہرہ مند دین دیال کے لیے یہ مشین کسبِ معاش کے ساتھ شہرت کا وسیلہ بنی۔

راجا دین دیال نے 1870ء کے وسط میں معاوضہ لے کر باقاعدہ فوٹو گرافی شروع کی اور اس غرض سے مختلف شہروں‌ میں‌ فوٹو اسٹوڈیو بھی قائم کیے۔ وہ اس سے قبل 1885ء میں‌ وائسرائے ہند کے لیے فوٹو گرافر کی حیثیت سے ذمہ داریاں‌ انجام دے چکے تھے جب کہ حیدرآباد دکن کے چھٹے نظام میر محبوب علی خان نے انھیں‌ اپنا کورٹ فوٹوگرافر مقّرر کیا تھا۔ اسی آصف جاہی فرماں روا نے انھیں راجا بہادر مصوّر جنگ کے خطاب سے بھی نوازا تھا۔

اُس زمانے میں‌ فوٹو گرافی ایک آرٹ سے کم نہیں‌ تھی جس میں مہارت کی بنیاد پر راجا دین دیال کو ملکہ وکٹویہ کی جانب سے باقاعدہ سند جاری کی گئی۔ یہ 1897ء کی بات ہے جب تک وہ شاہی خاندان اور ہندوستان میں انگریز سرکار کے لیے متعدد تقاریب اور اہم مواقع پر اپنی خدمات پیش کرچکے تھے۔

راجا دین دیال نے سب سے پہلے ریاست اندور کے شاہی خاندان کے لیے فوٹو گرافر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں‌ اور اسی حوالے سے ان کا نام اور کام جب ایک انگریز عمل دار سر ہنری ڈیلے تک پہنچا تو وہ اسے سراہے بغیر نہ رہ سکا اور دین دیال کی بہت حوصلہ افزائی کی۔

متحدہ ہندوستان کے اس فوٹو گرافر کی تصاویر اور اپنے کام میں‌ مہارت کا چرچا ہوا تو مقامی راجا اور فرماں روا، امرا اور انگریز سرکار بھی اس کی خدمات حاصل کرنے لگے راجا دین دیال نے انگریز گورنر جنرل کے وسطی ہند کے دورے کو بھی کیمرے کی آنکھ سے دیکھا اور مختلف لمحات کو تصویر کیا۔

1868ء میں دین دیال نے لالا دین دیال اینڈ سنز کے نام سے اپنا اسٹوڈیو بنایا اور اس کے تحت سرکاری سطح پر ہندوستان کے منادر، مختلف تاریخی عمارات اور پُرفضا مقامات کی تصاویر کھینچیں۔ اس فوٹو گرافر نے سکندر آباد کے علاوہ 1870ء میں‌ اندور شہر جب کہ 1896ء میں‌ بمبئی میں‌ بھی اسٹوڈیو قائم کیا۔

1875ء میں برطانیہ کے شاہی خاندان کی ہندوستان آمد پر انھوں نے فوٹو گرافر کی حیثیت سے تقریبات اور شاہی خاندان کی زندگی کے کئی لمحات کو عکس بند کیا۔ انھوں نے نہ صرف سیاسی اور عوامی تقاریب کے دوران عکّاسی کی بلکہ شاہی محلّات، باغات اور مختلف عمارتوں کو بھی اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔ شاہانِ وقت اور والیانِ ریاست کے علاوہ انھوں نے متعدد مشہور مقامات اور شخصیات کی تصاویر محفوظ کیں۔

دین دیال نے 1880ء کے آغاز پر سر لیپل گریفن کے ساتھ بھی فوٹو گرافر کی حیثیت سے وقت گزارا۔ انھوں‌ نے ہندوستان کے تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کا دورہ کیا تھا اور اس موقع پر جو 86 تصاویر ”یادگارِ وسطی ہندوستان” کے نام سے محفوظ کی گئی تھیں، آج بھی میوزیم میں‌ موجود ہیں۔

سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1885ء میں‌ راجا دین دیال نے حیدرآباد دکن کے چھٹے نظام اور 1897ء میں‌ ملکہ وکٹوریہ کے فوٹو گرافر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

راجا دین دیال کے کیمرے سے کھینچی گئیں نادر اور یادگار تصاویر نہ صرف بھارت بلکہ برطانیہ میں بھی شاہی میوزیم میں محفوظ ہیں‌ اور دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی خصوصی طور پر نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں