The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں‌ مسلسل دھماکے اور انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا طرز عمل

کراچی: شہر قائد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ماضی کی طرح انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا طرز عمل وہی رہا، ہر واقعے کے بعد وہ جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایک طرف کراچی دہشت گردی کے واقعات کی زد میں آ گیا ہے، اور دوسری طرف انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب جائے وقوعہ پر صرف مشہوری کے لیے حاضری دینے کا رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

چند دن قبل صدر دھماکے کے بعد بھی انچارج سی ٹی ڈی جائے وقوعہ پر تاخیر سے پہنچے تھے، اور گزشتہ رات بولٹن مارکیٹ دھماکے میں بھی راجہ عمر خطاب تاخیر سے مشہوری کے لیے پہنچے، انھوں نے پریس کانفرنس کی اور چلتے بنے۔

میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم موٹر سائیکل میں نصب تھا، اور پولیس موبائل ٹارگٹ تھی، آج کے اور صدر دھماکے میں مماثلت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات کراچی میں بولٹن مارکیٹ میمن مسجد کے قریب اقبال کلاتھ مارکیٹ میں دھماکے میں ایک خاتون جاں بحق اور بچے سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

کراچی دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

زخمیوں میں اے ایس آئی سمیت 2 اہل کار شامل ہیں، دھماکے میں کھارادر تھانے کی موبائل تباہ، کئی موٹر سائیکلوں اور رکشے کو نقصان پہنچا، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں کراچی میں دہشت گرد متحرک ہو رہے ہیں، یہ دہشت گردی کا مسلسل تیسرا واقعہ ہے، پولیس اور ادارے اپنا انٹیلیجنس کا کام تیز کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں