تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

بھارت: علما نے مسلمانوں سے 15 فروری کو بچے اسکول نہ بھیجنے کی اپیل کر دی

جے پور: بھارتی ریاست راجستھان میں علما نے مسلمانوں سے 15 فروری کو اپنے بچے اسکول نہ بھیجنے کی اپیل کر دی ہے، انھوں نے مقامی حکومت کے یوگا کے بہانے ’لازمی سوریہ نمسکار‘ کے احکامات کو مسترد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں راجستھان حکومت نے اسکولوں میں ’سوریہ نمسکار‘ لازم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، 15 فروری کو تمام اسکولوں میں سوریہ سپتمی کے موقع پر یوگا لازمی طور پر کیا جائے گا، جس پر جمعیت علمائے راجستھان نے اپیل کی ہے کہ مسلمان طبقہ 15 فروری کو اپنے بچے اسکول نہ بھیجیں اور تقریب کا بائیکاٹ کریں۔

جے پورمیں ہونے والے مجلس عاملہ اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی، جس میں اسکولوں میں 15 فروری کو سوریہ سپتمی کے موقع پر طلبہ، والدین اور دیگر کے لیے اجتماعی ’سوریہ نمسکار‘ کے حکومتی حکم کی مذمت کی گئی، اور کہا گیا کہ یہ مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔

دوسری طرف جمعیت علمائے ہند سمیت دیگر مسلم تنظیموں نے راجستھان ہائی کورٹ میں ایک مشترکہ درخواست بھی دائر کی ہے، جس میں 15 فروری کے پروگرام اور اسکولوں میں لازمی سوریہ نمسکار کے فیصلے کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے لیے 14 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔

مجلس عاملہ کے اجلاس میں علما نے واضح کیا کہ ہندو سماج میں سوریہ کو خدا/دیوتا کے طور پر پوجا جاتا ہے، اس عمل میں بولے جانے والے کلمات، اشلوک وغیرہ جیسی سرگرمیاں پوجا کی ایک شکل ہیں، جب کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت شرک ہے، اس لیے امت مسلمہ کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کرے گی۔

علما نے کہا کسی بھی جمہوری ملک میں یوگا کے بہانے کسی خاص مذہب کے عقائد کو دوسرے مذاہب کے لوگوں پر مسلط کرنا، بالخصوص بچوں کو مجبور کرنا آئینی اصولوں اور مذہبی آزادی نیز چائلڈ رائٹس کی کھلی خلاف ورزی اور ایک مذموم کوشش ہے۔

Comments

- Advertisement -