لاہوردھماکا، رانا ثناء اللہ کے متضاد بیانات سے معاملہ مشکوک -
The news is by your side.

Advertisement

لاہوردھماکا، رانا ثناء اللہ کے متضاد بیانات سے معاملہ مشکوک

لاہور : وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ ڈیفنس دھماکہ گیس کے لیکیج اورسلینڈر کی موجودگی کنفرم ہے اورامکان ہے کہ گیس لیکیج کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہو۔

یہ بات انہوں نے لاہورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، لاہوردھماکے سے متتعلق رانا ثناءاللہ کے متضاد بیانات نے معاملہ مزید مشکوک بنا دیا، پہلے کہا کہ دھماکا حادثاتی تھا، اگلے ہی لمحے انہوں نے بیان دیا کہ فرانزک ماہرین درست تعین کرسکیں گے کہ لاہور دھماکا دہشت گردی تھا یا حادثہ؟

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ڈیفنس دھماکے کی فرانز ک رپورٹ آگئی ہے اور کل کے دھماکے میں بارودی مواد کے شواہد نہیں ملے ہیں اور اب تک کی تفتیش کے مطابق گیس کے لیکیج اور سلنڈر کی موجودگی کنفرم ہے اور امکان ہے کہ گیس لیکیج کی وجہ سے دھماکہ ہواہو۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون نے کہا کہ کل کا دھماکہ حادثہ تھا اور یہ کوئی دہشتگردی یا بارود کا دھماکہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ناقص سلنڈرمہیا کرنے والوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق راناثناءاللہ متاثرہ عمارت کے اندر تو دور کی بات اس کے قریب تک نہ گئے اورنہ ہی ماہرین اندرگئے۔ عینی شاہدین کے بیانات سنے اور میڈیا پر آکر دھماکے کےحادثاتی ہونے کی دے دی۔

گزشتہ رات اےآروائی نیوز سے گفتگو میں راناثناء اللہ نےاعتراف کیاتھا کہ عمارت کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب ترجمان حکومت پنجاب نایاب حیدر کا کہنا ہے کہ راناثناءاللہ نےفارنزک رپورٹ دیکھ کر پریس کانفرنس کی ہے۔

حکومت پنجاب اور راناثنا ءاللہ کے بدلتے بیانات نے کئی شکوک وشبہات کو جنم دےدیا۔ رانا ثناء اللہ کوکس نے رپورٹ کیا کہ دھماکا گیس لیکیج کا تھا؟ سوئی ناردرن کا کہنا ہے کہ عمارت میں تو گیس کا کنکشن ہی نہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فارنزک ٹیم رات کے کس پہر عمارت میں داخل ہوئی؟ کب شواہد اکھٹےکئے نایاب حیدرکو خبر ہوگئی اور رپورٹ بھی تیارہوگئی اور رانا ثناءاللہ لاعلم رہے۔

دھماکے میں آٹھ قیمتی جانیں چلی گئیں لیکن دھماکےکی وجہ اب تک پراسرارہے۔ رانا ثناءاللہ حسب مزاج یہ معاملہ بھی متنازع کرگئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں