The news is by your side.

ہم مہنگائی پر قابو نہیں پاسکے، رانا ثنا اللہ کا اعتراف شکست

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ ہم مہنگائی پر قابو نہیں پاسکے لیکن ہمارے مشکل فیصلوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہوئی۔

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں مہنگائی بڑھ رہی تھی، لیکن حکومت کی تبدیلی سے مہنگائی کنٹرول نہیں ہوئی، آئی ایم ایف کے معاہدے میں دقت اور تاخیر بھی ہوئی، لیکن یہ دقت عمران خان کے معاہدہ توڑنے کی وجہ سے ہوئی۔عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے توڑا اگر اس وقت ہم معاشی چیلنج قبول نہ کرتے تو ملک کو نقصان ہوتا، ہم نے مشکلات کا سامنا کیا، ہماری کیلکولیشن تھی کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد عوام کو ریلیف دیں گے، لیکن سیلاب کی آفت نے ملک بھر میں تباہی مچا دی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیلاب کے ذمے دار ہم نہیں بلکہ پوری دنیا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کہا کہ دنیا کا کیا ہوا پاکستان بھگت رہا ہے، امید ہے کہ عالمی برادری کی مدد سے معاشی مشکلات پر قابو پائیں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان حالات میں عمران خان کے اقدامات قابل مذمت ہیں، شوکت ترین نے ایسی حرکت کہ جو شرم کی بات ہے، آئی ایم ایف معاہدے میں پی ٹی آئی نے رکاوٹیں ڈالیں، پی ٹی آئی نے ایسا کیا ہے جو مقبولیت میں اضافہ ہوگا، ہمیں پتا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے کیسے مقبول ہوتے ہیں، یہ کہہ رہے ہیں 25 مئی کو تیاری نہیں تھی، یہ اس سے پہلے ڈیڑھ ماہ تک گلی گلی پھرتے رہے، کہا کہ 25 مئی کو 20 لاکھ لاؤں گا، مان لو کہ اس دن آپ کو ناکامی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف ملک کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میری حکومت ہو تو ٹھیک ورنہ ملک پر بم گرا دو، وہ اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کر رہے ہیں اگر وہ ایسا کریں گے تو کیا ہم لیٹ جائیں گے؟ کیا ہم ملک کو بنانا ری پبلک بننے دیں گے؟ عمران خان اگر پرامن احتجاج کے لیے اسلام آباد آئیں گے تو ہم ان کو سہولت دیں گے لیکن اگر مسلح جتھے لیکر آئیں گے اور ریڈ زون کی طرف بڑھیں گے تو ہمیں ان کو روکنا پڑے گا اور ہم ان سے ان ہی کے انداز میں نمٹیں گے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع کے تنظیمی دورے کیے جائیں گے، مریم نواز اور حمزہ شہباز مختلف اضلاع کے دورے کریں گے اور ان دوروں سے آئندہ الیکشن کی تیاری میں مدد ملے گی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کے رویے کو دیکھتے ہوئے تبدیلی ہونی چاہیے اور تبدیلی لانا کوئی مشکل بات نہیں، وزیراعلیٰ پرویز الہٰی جس نمبر کے ساتھ وزیر اعلیٰ بنے تو وہاں سے صرف دو یا تین لوگ اِدھر اُدھر ہونے سے تبدیلی آجائے گی۔ پنجاب میں ہمیں ضرورت 3،4 لوگوں کی ہے10سے 15 لوگ رابطے میں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں