site
stats
پاکستان

سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ 20کروڑعوام بھگتیں گے،راناثنااللہ

لاہور : وفاقی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام ہوا تو 20اس کا نتیجہ 20 کروڑعوام بھگتیں گے، ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ خود سپریم کورٹ نےنہیں مانا ، سازشی ٹولے کی سازش سپریم کورٹ ناکام بنائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدم استحکام اس وقت ہوتا ہے جب عوام کے فیصلوں کو رد کیا جاتا ہے، منتخب نمائندے کو ہٹانے کی کوشش کی تو سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا، ملک میں سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ عوام بھگتیں گے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ خود سپریم کورٹ نے نہیں مانا، سپریم کورٹ کواستعمال کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، سازشی ٹولے کی سازش سپریم کورٹ ناکام بنائے گی ۔

وزیر قانون نے کہا کہ کچھ بیرونی طاقتیں پاکستان کوعدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں، بعض اوقات کسی اور کو آلہ کار بنا کر آگے بڑھایا جاتا ہے، نوازشریف 36سال میں وزیراعلیٰ ،وزیراعظم، وزیرخزانہ بنے، نوازشریف نے اس دور میں بہت سے منصوبےشروع کیے، کسی ایک منصوبے میں نوازشریف پر کرپشن کاالزام نہیں لگا، موٹر وے کے دستاویزات موجود ہیں، کمیشن اور کک بیکس کا بتاؤ۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا ہو تو ملک جہنم بن جاتاہے، ایسے ملک کے شہری بھی رل جاتے ہیں، پاکستان ایٹمی قوت اور بیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے، نوازشریف کو ہائی جیکنگ کے کیس میں عمر قید کی سزا دی گئی، 20 کروڑ عوام نے قصور وار نہیں ٹھہرایا، دوبارہ منتخب کیا، اب کوئی الزام نوازشریف پر لگانے کے لیے نہیں مل رہا، اربوں کے منصوبوں میں کرپشن ہوئی ہے تو بتائیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 40 سال پہلے کی بات کیوں نکالی جارہی ہے، وہ بھی خاندانی کاروبارکی، نوازشریف نے اندھیروں سے نکالنے کی مخلص کوشش کی ، دہشت گردی کے خلاف وزیراعظم نے کاری ضرب لگائی، لگتا ہے ان کے لیے آئندہ انتخاب میں نوازشریف کو ہرانا مشکل ہوگا۔

مسلم لیگ رہنما نے کہ کہ جوطریقہ کار اپنانےکی کوشش ہے، وہ عوام وملک کے حق میں نہیں، اگر ایسا ہوا تو عوام اسے 2018کے الیکشن میں اسے رد کریں گے، ہمیں بہتری کی امید رکھنی چاہیے، مکارمولوی، پنڈی کے شیطان اور الزام خان کو اللہ ہدایت دے، جب پاکستان آگے بڑھنا چاہتا ہے، عجیب حالات سے دو چارکر دیا جاتا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ ناواقفیت، کچھ عدم استحکام کی قوتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں، جن سے چلانہیں جاتا بات نہیں ہورہی عدالت پہنچ جاتےہیں، ایسے لوگ بھی حکومت لینے سپریم کورٹ پہنچ جاتے ہیں، ایک وزیراعلیٰ ایک صوبے سے دارالحکومت پرچڑھائی کرتا ہے، کیا یہ بغاوت نہیں ،کیا62،63صرف نوازشریف کے لیے بنی ہے، کیا وزیراعلیٰ کے حملہ آور ہونے کا نوٹس نہیں لیا جانا چاہیے تھا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جاویدہاشمی جو بات کررہے ہیں کیا وہ کسی کو سنائی نہیں دے رہی ،اب سپریم کورٹ کا سہارا لینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ لوگ ملک کو دہشتگردی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہےہیں، 1999 میں ملک میں لوڈشیڈنگ کا نام ونشان نہیں تھا، پاکستان کے عوام خودکش حملوں سے واقف نہیں تھے، پھر12 اکتوبر آیا،لوڈشیڈنگ آئی اور خودکش دھماکے بھی آئے، اس کے بعد دنیا بھر کے اخبار لکھ رہے تھے پاکستان دیوالیہ ہورہا ہے اور آج سب کہہ رہیں پاکستان سی پیک سے معاشی دھماکا کرنے جارہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top