The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں رینجرز ان ایکشن، 22 ملزمان گرفتار

کراچی: قانون نافذ کرنے والے ادارے نے شہر قائد کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے جرائم میں ملوث 22 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

سندھ رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق حالیہ کارروائیاں ماڈل کالونی، کورنگی، گلشنِ معمار، بریگیڈ اور پی آئی بی کالونی میں کی گئیں۔

رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت محمد فاروق، راشد عرف موٹا، عرفان عرف چِٹّا، محمد کاشف عرف انّا، بسم اللہ عرف وقار، رمیز، محمد عمار، مجیب الرحمان، مبشر احمد، اکمل، محمد نبی، بابر عرف بھورا، عرفان عرف کوئی، مححمد اکرم عرف خارشی اور بلال کے ناموں سے ہوئی۔

اعلامیے کے مطابق گرفتار ملزمان لوٹ مار، ڈکیتی اوراسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ اسی طرح رینجرز نے ماڈل کالونی، پاپوش نگر،گلشنِ معمار,گارڈن اور بریگیڈ کے علاقوں سے 7 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جن کی شناخت میر عبدالحئی عرف لطیف،زبیر مصطفٰی،ثنااللہ عرف سانو، جمیل خان عرف باندی، کامران عرف کامو، زیت اللہ خان اور نوروز کے ناموں سے ہوئی۔

مزید پڑھیں: گٹکا اور مین پوری کھانے والوں کے خلاف رینجرز کارروائی کرے، سندھ ہائی کورٹ

رینجرز کے مطابق  گرفتار ملزمان کے قبضے سے  اسلحہ،مسروقہ سامان اور منشیات بھی بر آمد ہوئی۔ تمام افراد کو مزید قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں گٹکے، ماوے اور مین پوری کی خریدوفروخت کے حوالے سے رینجرز کو کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی ۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اور اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کے ملوث ہوئے بغیر کراچی میں گٹکا فروخت نہیں ہوسکتا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ گٹکا کون اور کہاں بنارہا ہے، آئی جی کو حصہ نہیں ملتا تو کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ عدالت کو بتایا گیا کہ جناح اسپتال میں منہ کے کینسر میں مبتلا ایک ہزار سے زیادہ مریض لآئے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں