رینجرزنے قادر پٹیل کو حراست میں لینے کی تردید کردی -
The news is by your side.

Advertisement

رینجرزنے قادر پٹیل کو حراست میں لینے کی تردید کردی

کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنماء عبدالقادر پٹیل کو رینجرز نے طویل تفتیش کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے، قادر پٹیل نے دورانِ تفتیش عزیربلوچ سے تعلق کا اعتراف کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق عبدالقادر پٹیل آج رینجرز ہیڈ کوارٹر میں تفتیش کے لئے پیش ہوئے جہاں ان سے چار گھنٹے طویل پوچھ گچھ کی گئی، تفتیش کے دوران قادرپٹیل بار بار پانی پیتے رہے۔

عبدالقادر پٹیل کو رینجرز نے ڈاکٹرعاصم کیس میں تفتیش کے لئے طلب کیا تھا، ڈاکٹرعاصم نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا تھا کہ عبدالقادر پٹیل دہشت گردوں کے علاج کے لئے انہیں فون کرتے رہے ہیں۔

رینجرز نے تاحال عبدالقادرپٹیل کی گرفتاری کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے تاہم عبدالقادر پٹیل کے نزدیکی ذرائع کے مطابق انہیں نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا ہے۔

عبدالقادر پٹیل نے رینجرز کی تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ پی پی پی کے کئی رہنماء عزیر بلوچ سے مدد لیتے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رینجرز کے تفتیشی افسران نے قادر پٹیل سے انتہائی اہم نوعیت کے کئی سوال پوچھے تو وہ ان کے اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔

رینجرز نے قادر پٹیل سے پولیس افسران کی تعیناتی اور ان کے گینگ وار سے تعلقات کے متعلق بھی سوال کئےجس پرقادر پٹیل نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار مرزا یہ تمام معاملات دیکھا کرتے تھے۔

رینجرز کے افسران نے جب قادر پٹیل سے سوال کیا کہ وہ لیاری کے بدنامِ زمانہ دہشت گرد اور گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو کیسے جانتے ہیں۔ جواب میں قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ سے ان کے پرانے تعلقات ہیں ، پیپلز پارٹی کے کئی رہنما اس سے ملتے رہے ہیں اور مختلف معاملات میں اس کی مدد لیتے رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوکے سیکیورٹی آفیسر خالد شہنشاہ جو کہ بینظٰیر کیس اہم گواہ بھی تھے، ان کے قتل سے متعلق پوچھے گئے سوال پر قادرپٹیل نے اظہارِلاعلمی کیا۔

دورانِ تفتیش عبدالقادرپٹیل کا فشارِ خون ( بلڈ پریشر) بھی بلند ہوگیا اوروہ باربارپانی طلب کرتے رہے، اس موقع پر رینجرز کے ڈاکٹر بھی موجود تھے جو کہ عبدالقادر پٹیل کا معائنہ کررہے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں