The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ قتل کیس ، راؤانوار کا الزامات ماننے سے انکار

کراچی : نقیب اللہ قتل کیس میں مرکزی ملزم راؤانوار نے الزامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ مقابلے کے دوران میں موقع پر موجود نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے ملزم راؤانوار کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا، جس میں راؤانوار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو ماننے سے انکارکردیا ہے۔

راؤ انوارنے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ نہ مجھے نقیب اللہ کی گرفتاری کا علم تھا نہ ہی میں مقابلے کے دوران موقع پر تھا۔

بیان میں راؤ انوارکا کہنا تھا کہ میں جتنی دیرمیں گڈاپ سے شاہ لطیف ٹاون پہنچا، مقابلہ ہوچکا تھا، مجھے نہیں پتہ نقیب اللہ شاہ لطیف کیسے پہنچا، مجھے تو شاہ لطیف چوکی کےانچارج علی اکبرملاح نے مقابلے سے متعلق فون کیا اور صرف اتنا بتایا کہ ملزمان کی اطلاع ہے۔

ذرائع کے مطابق نقیب اللہ کیس میں تحقیقاتی کمیٹی روازنہ کی بنیاد پر میٹنگزکررہی ہے اور گواہوں اور گرفتاراہلکاروں سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔


مزید پڑھیں : نقیب اللہ کیس ، راؤانوار 30روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے


یاد رہے کہ 21 مارچ کو راؤانوار نقیب اللہ کیس کی سماعت میں اچانک پیش ہوگئے تھے، جس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر انھیں گرفتار کر لیا گیاتھا اور نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

جہاں کراچی کی انسداددہشتگردی عدالت نے نقیب اللہ کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کو 30روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌کیا تھا. ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

البتہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس کیس مقرر کرتے ہوئے راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں