The news is by your side.

Advertisement

بھارت، گائے کا گوشت کھانے کا الزام، دو خواتین سے اجتماعی زیادتی، دو قتل

ہریانہ: بھارتی ریاست ہریانہ میں‌ گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں دو خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور دو افراد کو قتل کردیا گیا

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع میوات کے ڈینگر ہیڑی گاؤں میں دو ہفتے قبل دو مسلم خواتین کے ساتھ اجتماعی ہوئی جس کے بعد سے علاقے میں دہشت پھیلی ہوئی ہے۔

حملہ آوروں نے مبینہ طور پر ایک بچی اور ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ریپ کیا اور ان کے دو رشتے داروں کو زدوکوب کر کے قتل کر دیا، اس حملے میں دو بچوں سمیت چار افراد بری طرح زخمی بھی ہوئے۔

مقامی لیڈر کے مطابق اس واقعے سے پورا میوات ہل گیا ہے ہم لوگ بہت صدمے میں ہیں اور بہت ہی دہشت زدہ ہیں کیونکہ اس طرح کا خوف ناک واقعہ اس سے قبل ہمارے علاقے میں آج تک پیش نہیں آیا، واقعے کے خلاف علاقے کی مسلم آبادی میں اشتعال پھیلا ہوا ہے۔

ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھ سے پوچھا تیرا خاوند کہاں ہےِ؟ میں نے بتایا کہ وہ گڑگاؤں میں ہیں، پھر پوچھا کب آئے گا؟ میں نے بتایا وہ بقرعید پر آئیں گے تو کہا کہ تم لوگ گائے کھاتے ہو اس لیے تمہاری بے عزتی کر رہے ہیں۔‘

متاثرہ خاتون نے بتایا انھیں بہت زد وکوب کیا گیا اور جسمانی اور جنسی طور پر انھیں ایذا دی گئی، خاتون کے ساتھ ساتھ جس بچی کے ساتھ اجتماعی ریپ ہوا وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ بات تککرسکے۔

ہریانہ : بقر عید پر گائے کی قربانی پر پابندی

اس واقعے میں پولیس نے چار حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے، تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آور چار سے زائد تھے، بعض ملزموں کے فیس بک پروفائل سے پتا چلتا ہے کہ وہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے حمایتی ہیں۔

کچھ دن قبل ہریانہ میں پولیس ٹیمیں‌ بھی تشکیل دی گئی ہیں‌ جن کا کام ہوٹلوں پر فروخت ہونے والی بریانی میں گائے کے گوشت کو تلاش کرنا ہے، ملنے کی صورت میں‌ ہوٹل مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ہریانہ بی جے پی کے اقیلتی محاذ کے صدر چوہدری اورنگزیب کہتے ہیں کہ اس واقعے پرکچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں ’یہ ہندو مسلم کا سوال نہیں ہے جو ملزم ہے وہ ملزم ہے، قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گاجب کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہر لعل کھٹر نے اس واقعے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں