site
stats
اے آر وائی خصوصی

حج کی سالوں پرانی نایاب تصاویر

اسلام کا اہم ترین فریضہ عبادت حج کا موقع قریب آرہا ہے اور صرف چند روز بعد دنیا بھر سے بے شمار فرزندان اسلام اس اہم فریضے کی ادائیگی کے لیے مکہ المکرمہ پہنچیں گے۔

آج سعودی عرب میں دنیا بھر سے آنے والے حجاج کرام کی میزبانی کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاہم اب سے چند دہائیوں قبل منظر نامہ کچھ مختلف تھا۔

وہ دور آج کے دور جیسا ترقی یافتہ بھی نہیں تھا، اور مختلف ممالک سے حج ادا کرنے کے لیے مکہ المکرمہ پہنچنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔

مزید پڑھیں: خانہ کعبہ کی مختلف ادوار کی تصاویر

آج ہم آپ کو سنہ 1953 میں کھینچی گئی حج کے موقع کی ایسی ہی کچھ نایاب تصاویر دکھانے جارہے ہیں جنہیں دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود فرزندان اسلام دین اسلام کی محبت و عقیدت سے سرشار ہو کر اس فریضے کی تکمیل کے لیے پہنچتے تھے۔

 اس وقت جہاز کا سفر اتنا عام نہیں تھا اور دنیا کے دور دراز خطوں سے آنے والے بحری سفر کر کے حج ادا کرنے پہنچتے تھے۔


صاحب حیثیت افراد ہوائی جہاز کا سفر بھی کرتے تھے مگر وہ زیادہ تر قریبی ممالک کے رہنے والے ہوتے تھے۔


حجاج کرام کے ایک سے دوسری جگہ سفر کا منظر۔


اس وقت موجود کئی عمارتوں کو حرم کی وسعت تعمیر کے لیے اب ڈھا دیا گیا ہے۔


غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی کا بورڈ۔


مکہ کی ایک مصروف سڑک، تصویر میں عثمانی طرز تعمیر کا حامل ایک مینار بھی موجود ہے۔


مسجد الحرام میں داخلے کا ایک منظر۔


مسجد کے دروازے کے باہر محو عبادت نمازی۔

خانہ کعبہ اور مطاف کا ایک منظر، اس وقت یہاں پکے فرش نہیں بچھائے گئے تھے۔


اس وقت عازمین حج کو خانہ کعبہ کے اندر داخلے کی اجازت بھی تھی۔


خانہ کعبہ کا طواف اس وقت ایک آسان عمل تھا کیونکہ اس وقت آج کی طرح لوگوں کا ہجوم نہیں ہوتا تھا۔


مسجد الحرام کے قریب قائم بازار اور مختلف اشیا فروخت کرنے والے تاجر۔


اس وقت گھوڑا گاڑیاں آمد و رفت کا نہایت آسان ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔


حجاج کرام قربانی کے لیے اپنی مرضی کے جانور کا انتخاب کرتے تھے۔


فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران کچھ حجاج اپنے جانوروں کو اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے۔


جانوروں کی قربانی کے بعد انہیں گدھے پر لاد کر لے جایا جاتا تھا۔


حجاج ہاتھ سے بنے چولہوں پر اپنا کھانا خود تیار کیا کرتے تھے۔


میدان عرفات میں حاجیوں کے نصب شدہ خیمے۔


شیطان کو کنکریاں مارنا یعنی جمرات کے لیے مٹی کا ایک ستون استعمال ہوتا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top