The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بوسنیا کے سابق کمانڈر کیخلاف عدالت کا بڑا فیصلہ

سراجیو : بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے سابق بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد ہوگئی ہے۔

بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں 2017 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کی عدالت نے 1995 میں سری برنیکا میں 8000 بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل میں ان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ اہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ راتکو ملادچ اپنی باقی سزا کہاں پوری کرے گا۔

یاد رہے کہ اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی عدالت کے پانچ افراد پر مشتمل پیل پینل نے قرار دیا کہ راتکو ملادچ اپنے خلاف پچھلی سزاؤں کو غلط ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

تاہم اپیل چیمبر نے استغاثہ کی طرف سے لائی گئی اس اپیل کو مسترد کردیا جس میں جنگ کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں اور بوسنیائی کروٹوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر راتکو ملادچ کو دوسری بار سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل اگست میں راتکو ملادچ نے اپنی اپیل کی سماعت کے دوران اقوام متحدہ کے ٹریبونل کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی طاقتوں کا بچہ قرار دیا تھا۔

دوران سماعت راتکو ملادچ کے وکیلوں نے دلائل دیے کہ جب قتل عام ہورہا تھا تو اس وقت وہ سربرینیتزا سے بہت دور تعینات تھا۔

ملادچ نے جنہیں بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔

یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں