نیشنل بینک کے سابق صدر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ -
The news is by your side.

Advertisement

نیشنل بینک کے سابق صدر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ

کراچی: کرپشن کیس میں گرفتار نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا سمیت 5 ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کی بنگلہ دیش شاخ میں 18 ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ملزمان نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا اور دیگر زبیر، وسیم خان، عمران بٹ اور طاہر کو نیب نے احتساب عدالت میں پیش کیا۔

تمام ملزمان کو 4 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ کردیا گیا۔

نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا کے وکیل نے درخواست کی کہ ان کے موکل دل کے مریض ہیں۔ جیل میں بہتر کلاس دی جائے۔

سماعت کے بعد عدالت سے نکلتے ہی نیب اہلکاروں نے علی رضا کی ہتھکڑی کھول دی۔

یاد رہے کہ نیشنل بینک کے سابق صدر سید علی رضا کو گزشتہ روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد علی شیخ کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے سید علی رضا سمیت 7 ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کی تھی۔

مزید پڑھیں: کرپشن الزامات پر نیشنل بینک کے سابق صدر سید علی رضا گرفتار

سید علی رضا اور بینک کے 7 دیگر ملازمین پر نیشنل بینک کی بنگلہ دیش میں واقع شاخ میں 18 ارب روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

چند سال قبل مذکورہ الزامات سامنے آنے کے بعد نیب نے سید علی رضا اور دیگر ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کردی جس کے بعد علی رضا نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے 5 لاکھ روپے مچلکے کے عوض ان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

اس دوران علی رضا نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے تھے کہا تھا کہ وہ خود بینک کے گروپ چیفس کے ماتحت تھے جو بینک میں کسی بھی قانون ورزی کے خلاف کارروائی کے مجاز تھے۔

علی رضا کا مؤقف تھا کہ انہوں نے 14 جنوری 2011 میں اپنا عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم 21 اگست 2015 کو انہیں نیب کی جانب سے نوٹس موصول ہوا کہ وہ تفتیش کے لیے نیب میں پیش ہوں۔

تاہم گزشتہ روز ان کی ضمانت منسوخ کردی گئی اور نیب نے انہیں گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد آج ان کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کرلیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں