The news is by your side.

پارلیمان بالادست ہے، ہر ادارے کو اپنی آئینی حدودمیں رہنا ہوگا: رضا ربانی کا الوداعی خطاب

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ مجھے فخرہوگا کہ اگر میرا نام ان چیئرمیز میں شامل ہو، جنھوں نے بادشاہ کے سامنے سر تو کٹا دیا، لیکن پارلیمنٹ کی بالادستی پرسمجھوتا نہیں کیا.

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے سینیٹ میں‌ اپنے الوداعی خطاب میں‌ کیا. ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ پارلیمان کی بالادستی ہونی چاہیے اور پارلیمان بالادست ہے، ہر ادارے کو اپنی آئینی حدودمیں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے، پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے لازم ہے کہ ایگزیکٹو آرڈیننس کا اختیار ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چند سینیٹرز کا کردار ہمارے لئے رول ماڈل ہے. سینیٹرز سے معذرت بھی کرتا ہوں، کئی بار سختی سے بھی بات کی، یہ سختی اس لئے نہیں تھی کہ میرے ذہن میں چیئرمین شپ تھی، مقصد تھا کہ ہاؤس اپنا کام درست انداز میں کرے، قوانین کی بالادستی نہیں کرتے، تو ممکن نہیں ہوتا کہ بڑی جنگ جیت سکتے. پارلیمنٹ کی بالادستی کےآرٹیکل 89 کو ڈیلیٹ کیا گیا۔

چاہتے ہیں کہ رضا ربانی جیسا شخص چیئرمین سینیٹ ہو، نوازشریف

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس نے بھی مجھے بلایا اورریفارمز کی بات کی، آرمی چیف کو کمیٹی میں آنے کی دعوت دی تھی، ڈی جی آئی ایس آئی بھی ہاؤس میں آئے تھے، اگر ہم دوسروں کو موقع دیں گے تو کوئی اور جگہ بنائے گا.

چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے آزادی کے بعد کھل کر بولوں گا،رضا ربانی

انھوں نے کہا کہ سینیٹ کی جانب سے تجویز دی گئی تھی کہ ایم این اے، ایم پی اے ووٹ دینے جائیں، تو ان کا نام بیلٹ پیپرپرلکھا ہو، تمام جماعتوں نے تجاویز مسترد کردیں، کہا گیا کہ سیکریسی آف بیلٹ ختم ہو جائے گی، مگر اس وقت کون سی راز داری ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ براہ راست الیکشن کامطلب ہے کہ 1973  کے آئین کی نفی ہے، سینیٹ الیکشن براہ راست کر دیے تو صرف بڑی پارٹیاں آجائیں گی، میں سمجھتا ہوں میری کامیابی آرٹیکل 172 تھری پر عمل درآمد سے ہے، آرٹیکل 172 تھری کو عملی جامہ پہنانا آئندہ سینیٹ کا کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2015 کو منصب کا حلف اٹھایا تھا، تو اپنے اثاثے ظاہر کیے، وعدہ کیا تھا کہ جب منصب سے ہٹوں گا، تب بھی اثاثے بتاؤں گا، مخالفین میرے 2015 اور آج کےا ثاثوں کا موازنہ کرلیں۔

رضاربانی کا کہنا تھا کہ چھوٹے سے سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا، اپنی والدہ اور سیاسی ماں بینظیر بھٹو کی وجہ سے آج اس مقام پر پہنچا، منصب آنی جانی چیز ہے، آخر میں کردار اور اصول رہ جاتے ہیں، میں نے کبھی اصولوں پرسمجھوتا نہیں کیا.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں