The news is by your side.

Advertisement

طالبان کا قبضے کا دعویٰ جھوٹا ہے: افغان حکومت

کابل: افغان حکومت نے طالبان کے افغانستان کے 90 فی صد علاقے پر قبضے کی تردید کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے نوّے فی صد علاقے پر قبضے کا طالبان کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے، اب بھی افغانستان کے بیش تر علاقے ہمارے کنٹرول میں ہیں، دوسری طرف جھڑپوں کے دوران افغان فورسز نے مزید 152 طالبان مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع کے نائب ترجمان فواد امان نے بتایا کہ ملک کی سرحدوں پر افغان سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے، طالبان کا دعویٰ پروپیگنڈا ہے، پیٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ملک کے تقریباً نصف یعنی 4 سو اضلاع طالبان کے قبضے میں ہیں، جب کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی نوے فی صد سرحد پر طالبان کا کنٹرول ہے، جس میں تاجکستان، ترکمانستا، ازبکستان اور ایران کے ساتھ سرحد شامل ہے۔

افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، امریکا کی جانب سے بھی فضائی حملوں کے ذریعے افغان فورسز کی مدد کی جا رہی ہے، تاہم امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ فضائی حملوں کے حوالے سے تفصیلات نہیں مہیا کر سکتے۔

ترجمان طالبان کا کہنا ہے اقتدار پر اجارہ داری نہیں چاہتے، تاہم اشرف غنی کو ہٹائے جانے تک امن ممکن نہیں۔ترجمان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں داعش کو فعال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انھوں نے کہا کہ افغانستان میں وسطی ایشیا یا چین سے تعلق رکھنے والے شدت پسند موجود نہیں ہیں۔

ذبیح اللہ کا کہنا تھا طالبان نے ترکی کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، انخلا مکمل ہونے کے بعد افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کی کسی طور بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری طرف روس نے آئندہ ماہ سے افغانستان کی سرحد کے قریب تاجکستان اور ازبکستان میں فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاجکستان میں ماسکو کے اڈے پر تعینات روسی ٹینک اگلے ماہ ہونے والی فوجی مشقوں کے لیے افغانستان کی سرحد کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ’حرب میدان‘ میں فوجی مشقیں کی جائیں گی، جہاں طالبان نے افغان فوجیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں