The news is by your side.

Advertisement

این اے 249 ضمنی انتخاب، ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری، پی پی کے سوا تمام جماعتوں کا بائیکاٹ

کراچی: شہر قائد میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 249 پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے سوا تمام جماعتوں نے دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق این اے 249 کے ضمنی انتخاب کی دوبارہ گنتی کا معاملہ متنازع ہو گیا ہے، ووٹوں کے بوروں پر سے سیل غائب، فارم 45 بھی نہیں دیے گئے، پیپلز پارٹی کے سوا ن لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے گنتی کے عمل کاابائیکاٹ کر دیا۔

پی ایس پی کے رہنما حفیظ الدین نے کہا ہے کہ ووٹوں کے بوروں پر سیل مہر ہی نہیں تھی، اس لیے ہم ری کاؤنٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہیں، دریں اثنا تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں نے بھی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا۔

پی ٹی آئی کے امیدوار امجد آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہم نے درخواست دی کہ فارم 45 اور 46 نہیں ملے، جب فارم ہی نہیں ملے تو کس طرح ری کاؤنٹنگ میں بیٹھیں، 2 تھیلے ہمارے سامنے لا کر رکھے گئے لیکن کسی پر بھی سیل نہیں تھی، عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔

امجد آفریدی نے کہا ہم نے درخواست کی ہے کہ فرانزک کرایا جائے، 29 اپریل کا الیکشن تاریخ کا بدترین الیکشن ہے، 17 ہزار ووٹرز جنھوں نے 2018 میں ووٹ کاسٹ کیا تھا انھیں منتقل کر دیاگیا، میرے اور بھائی کے خاندان میں بھی ووٹوں کو تبدیل کیا گیا، سندھ حکومت نے ووٹرز کو یہاں سے ٹرانسفر کیا ہے، اسی طرح 10 ہزار سے زائد بوگس ووٹ بھی ڈالا گیا، ہمارا مطالبہ ہے 2018 کی ووٹر لسٹوں پر دوبارہ ری پولنگ کرائی جائے۔

ن لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل نے کہا ہمیں جو فارم 45 ملے تھے اس میں 165 پر دستخط نہیں تھے، غیر استعمال شدہ بیلٹ گنے جاتے ہیں جو نہیں گنے گئے، جو ٹھپے لگتے ہیں وہ غیر استعمال شدہ بیلٹ پر لگتے ہیں، جب پول ہو چکا تھا تو ہم نے کہا ایک بار دوبارہ گن لو آرام سے، لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی، پہلے باکس کی سیل نہ تھی کسی نے پوچھا تو کہنے لگے گر گئی ہوگی۔

انھوں نے کہا کتنے بیلٹ پیپر آئے اور کتنے استعمال ہوئے، اس کا ریکارڈ نہیں دیا جا رہا، جو بیلٹ پیپر استعمال نہیں ہوئے اس کا ریکارڈ بھی ہم نے مانگا ہے، آر او نے کہا ہے فارم 46 نہیں دیں گے جو قانون کی خلاف ورزی ہے، ہم دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں