The news is by your side.

Advertisement

ریفرنس بہت اسٹرونگ ہے، شہبازشریف کی بوکھلاہٹ واضح ہے، شہزاد اکبر

اسلام آباد : مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے پہلے نیب قانون سے متعلق تجاویز دی گئیں، 34ٹانکوں کی ناکامی کے بعد اپوزیشن منی لانڈرنگ بل پر کھڑی ہوئی۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرگن پر بھی ناکامی بعد ملاقانوں کے انکشافات ہورہے ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سے کافی عرصے سے سوال کرتا آرہا ہوں، شہباز شریف سے اب صرف 4 سوال کیے، اسمبلی بھی گیا، جواب نہیں دیتے، شہباز شریف، فیملی کے خلاف ریفرنس میں 55 والیمز، 25 ہزار صفحات ہیں۔

مشیر برائے احتساب کا کہنا تھا کہ شہبازشریف،فیملی کی177ٹی ٹیزکاریکارڈموجودہے، ریفرنس میں آرگنائزڈمنی لانڈرنگ کالفظ لکھا گیا ہے، ریفرنس بہت اسٹرونگ ہے، شہبازشریف کی بوکھلاہٹ واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم کا کارکنان کیساتھ نیب آمد کا مقصد انصاف کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے، منی لانڈرنگ کیس میں شواہد بہت مضبوط ہیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ملک ایوب کو انہوں نے ملک سے فرار کرادیا ہے، ملک ایوب وہی شخص ہے جس کا نام شوگر انکوائری میں بھی آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کیخلاف 4 ماہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس چل رہا ہے، شہباز شریف شخصی ضمانت بھی دے چکے ہیں اور وہ شخص اس وقت مفرور ہے۔

مشیر برائے احتساب نے کہا کہ چھوٹی تنخواہ کے لوگوں کے نام پر اکاؤنٹس بنائے گئے، تنخواہ 20 ہزار تک تھی اور اربوں کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ شریف گروپ کے فنانس منیجر عثمان جو گرفتار ہیں وہ سب معاملات دیکھتے تھے، ان کی کمپنیوں میں کاروبار کم اور پیسوں کا ہیرپھیر زیادہ ہوتا تھا، صرف ایک مل سے 10 ،12 ارب کے اکاؤنٹس مل رہے ہیں۔

مشیر احتساب شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی باقی کمپنیوں میں سے معلوم نہیں کتنے ارب کے اکاؤنٹس آئیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں