The news is by your side.

فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو سوالنامہ فراہم کر دیا گیا

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت میں تفتیشی افسر محمد کامران پر جرح مکمل ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کی۔ سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسر محمد کامران پر جرح کی جو مکمل ہوگئی۔

عدالت نے نیب کے دونوں اعتراض مسترد کردیے۔ نیب کا اعتراض تھا کہ العزیزیہ ریفرنس میں پہلے وکیل صفائی حتمی دلائل دیں اور نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں پیشگی سوالنامہ نہ دیا جائے۔

عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں حتمی دلائل کل طلب کرلیے۔ عدالت نے گزشتہ روز کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر نیب کل پہلے دلائل دیں گے۔

دوسری جانب فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو 342 کے تحت بیان قلمبند کروانے کے لیے سوالنامہ فراہم کر دیا گیا۔ نواز شریف کو دیا گیا سوالنامہ 62 سوالات پر مشتمل ہے۔

نیب کل فلیگ شپ ریفرنس میں شواہد مکمل ہونے سے متعلق بیان دے گا۔ ریفرنس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

گزشتہ روز استغاثہ کے گواہ تفتیشی افسر محمد کامران نے عدالت میں کہا تھا ہماری درخواست پر لندن لینڈ آف رجسٹری کی جانب سے 2 دستاویز دی گئیں۔ لینڈ رجسٹری ڈپارٹمنٹ کو آخری ایڈیشن کے لیے درخواست دی، درخواست کے جواب میں ہسٹوریکل کاپی ملی۔

محمد کامران نے کہا تھا کہ لینڈ رجسٹری ڈپارٹمنٹ نےانفارمیشن کی بنیاد پر جواب دیا، لینڈ رجسٹری ڈپارٹمنٹ سے موجودہ ملکیت کے بارے میں پوچھا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے ریکارڈ کی کاپی ملی تو اس پر 31 اکتوبر کی تاریخ لکھی تھی، درخواست کے مطابق پراپرٹی فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے منسلک تھی، ان میں سے ایک کمپنی حسن نواز کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں