The news is by your side.

Advertisement

ریکوڈک منصوبوں میں نقصان پہنچانے والے عناصر بےنقاب، ریفرنس دائر

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ریکوڈک منصوبوں میں نقصان پہنچانے والے عناصر کو بےنقاب کردیا ہے۔

ترجمان نیب کے مطابق ریکوڈک منصوبوں میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر بلوچستان حکومت کے سابق عہدیداران سمیت چھبیس افراد کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا ہے، ریکارڈ کی چھان بین کےبعد ملزمان کیخلاف ناقابل تردید ثبوت جمع کئے گئے، ملزمان نے ذاتی مفاد کیلئے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

ریفرنس کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ 1993ء میں بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بروکن ہلز پروپرائٹری نامی آسٹریلوی کمپنی کے مابین چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر معاہدے کے بعد انہوں نے آسٹریلوی کمپنی کو غیرقانونی فائدہ پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:  ریکوڈک کیس، حکومتی کاوشیں‌ رنگ لے آئیں، کمپنی جرمانہ چھوڑنے پر تیار

ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ معاہدے کی شرائط کو مزید مستحکم کرنے کیلئے بلوچستان مائننگ کنسیشن قوانین میں غیرقانونی طریقے سے ترامیم کی گئیں، ذیلی معاہدات اور ٹیتھیان کاپر کے نام سے نئی کمپنی متعارف کرواکر اربوں روپے کے مالی فائدے حاصل کئے گئے۔

نیب کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ محکمہ مال بلوچستان کے افسران کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ اور دیگر امور میں بھی شدید بے قاعدگیاں کی گئیں، ٹیتھیان نامی کمپنی کی جانب سے سرکاری ملازمین کو اپنے فائدے کیلئے رشوت بھی دی گئی۔

ترجمان نیب بلوچستان کا مزید کہنا ہے کہ میگا کرپشن کیس کے حوالے سے مزید تحققات جاری ہیں دیگر ملزمان کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔

ریکوڈک معاہدے میں بدعنوانی کے الزامات اس سے پہلے بھی لگائے گئے تھے جس کی بناء پر اس معاہدے کو پاکستان کی سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے یہ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس پرٹھیتیان کمپنی نے بین الاقوامی ثالثی ٹربیونل انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ سے رجوع کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں