پیر, اپریل 7, 2025
اشتہار

گھر والوں کو نہیں معلوم کہ میں جیل میں ہوں ، قیدی خواتین کی رہائی کے وقت رقت آمیز مناظر

اشتہار

حیرت انگیز

عید ہو یا کوئی خوشی کا تہوار جیلوں میں موجود بے سہارا اور غریب قیدی خواتین اور مرد اپنی سزا مکمل ہونے کے باوجود بعض قانونی پیچیدگیوں یا ضمانت کی رقم نہ ہونے کے باعث آزادی سے محروم رہتے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سرعام‘ کی ٹیم نے عید الفطر کے موقع پر کراچی کی جیل میں چند قیدی خواتین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرکے ان کو اس مشکل سے نجات دلائی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ’سرعام‘ کے گزشتہ پروگرام میں جب ان قیدیوں کی مشکلات کے حوالے سے بتایا گیا تو بریڈ فورڈ سے ایک خاتون اور کینیڈا سے ایک صاحب نے ٹیم سرعام سے رابطہ کرکے ان خواتین قیدیوں کی قانونی اور مالی معاونت کا بیڑہ اٹھایا۔

جیل میں ایسی بہت سی خواتین ہیں جن کی عدالتوں سے ضمانتیں تو ہوگئی ہیں لیکن ان کے پاس ضمانت کی رقم جمع کرانے کیلیے پیسے نہیں تھے یا ان کے پیچھے انہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا اسی لیے کچھ تو کئی سال اور کچھ کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور اسی کے سبب قیدی خواتین کی رہائی نہیں ہوپاتی۔

jail

ابتدائی طور پر 6 ایسی خواتین کا انتخاب کیا گیا جن کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ نہیں تھا اور وہ اس سال کی عید وہ اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے گھروں میں منا سکیں گی۔

اس موقع پر ان قیدی خواتین سے گفتگو کرکے انہیں یہ خوشخبری سنائی گئی تو رقت آمیز مناظر دیکھنے
میں آئے خواتین کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔

گھر والوں کو نہیں معلوم کہ میں جیل میں ہوں

ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ میں قتل کے جھوٹے مقدمے میں تھی میرا قصور صرف اتنا تھا کہ میں اس گھر میں چلی گئی تھی جہاں قتل ہوا میرے گھر والوں کو نہیں معلوم کہ میں جیل میں ہوں۔ میری 19 دن بعد ہی ضمانت ہوگئی تھی لیکن ضمانت کے ڈیڑھ لاکھ روپے نہیں ہیں۔

دل چاہتا ہے کہ اُڑ کر فوراً اپنے گھر چلی جاؤں

ایک قیدی خاتون نے بتایا کہ میں یہاں دس ماہ سے ہوں میری ضمانت ہوچکی ہے اور میرا شوہر بھی ذہنی مریض ہے لہٰذا میری مشکل حل کرنے والا کوئی نہیں، میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہاں سے اُڑ کر فوراً اپنے گھر چلی جاؤں۔

قیدی خواتین کی رہائی کا منظر دیکھ کر وہاں موجود لوگوں کی بھی آنکھیں نم ہوگئیں، ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی قید اب آزادی میں بدلنے والی ہے اس موقع پر ان کی خوشی دیدنی تھی۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں