The news is by your side.

Advertisement

عہد ساز تخلیق کار مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے

یوسفی کا شمار اردو زبان کے عظیم ترین مزاح نگاروں میں ہوتا تھا

کراچی: اردو کے عہد ساز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی انتقال کر گئے، ان کی عمر 96 سال تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔

تفصیلات کے مطابق اردو زبان کا فخر، ممتاز قلم کار مشتاق احمد یوسفی جہان فانی سے کوچ کر گئے، ان کا شمار اردو کے عظیم ترین مزاح نگاروں میں ہوتا تھا۔ یوسفی صاحب کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1921 کو  راجھستان کے ضلع ٹونک، ہندوستان میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی۔

فلسفے میں ایم اے آگرہ یونیورسٹی سے کیا، ایل ایل بی کا مرحلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طے ہوا، تقسیم ہند کے بعد کراچی آگئے، بینکاری کا پیشہ اختیار کیا اور اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچے.

مزاح‌ نگاری میں وہ اپنی مثال آپ تھے. ان کی پانچ کتابیں منظر عام پر آئیں، 1961 میں‌ چراغ تلے، 1969 خاکم بدہن، 1976 میں‌ زرگزشت، 1990 میں‌ آبِ گم، 2014ء شامِ شعرِ یاراں منظر عام پر آئیں، ان کی ہر کتاب بیسٹ سیلر ثابت ہوئی.

مشتاق احمد یوسفی کو 1999 میں ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز کے تمغوں سے نوازا گیا، انھیں‌ ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی عطا ہوئی۔


اردو کا ایک اور محسن رخصت ہوا، ممتاز مترجم اور ادیب محمد عمر میمن انتقال کر گئے


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں