The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی حکومت گرنے کا خطرہ بڑھ گیا

لندن: برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی حکومت گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے استعفیٰ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے ستارے ان دنوں گردش میں ہیں کیونکہ ان کی حکومت گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بورس جانسن نے استعفیٰ بریگزٹ کے وزیر کے استعفے کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا، تھریسامے کابینہ کے مزید وزراء کے استعفوں کا بھی امکان ہے۔

قبل ازیں بریگزٹ امور کے نگراں وزیر ڈیوڈ ڈیوس اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، ڈیوس نے اپنے استعفے کا اعلان لندن میں ملکی کابینہ کے اس فیصلے کے دو روز بعد کیا کہ برطانیہ یورپی یونین سے اپنے اخراج کے بعد بھی اس بلاک کے ساتھ اپنے قریبی اقتصادی روابط قائم رکھے گا۔

ڈیوڈ ڈیوس کو بریگزٹ کے حوالے سے ایک سخت گیر سوچ کا حامل سیاست دان تصور کیا جاتا ہے اور وہ اس بارے میں وزیر اعظم تھریسامے کے موقف کی مخالف کرتے ہوئے ماضی قریب میں کئی بار اپنی ذمے داریوں سے مستعی ہوجانے کی دھمکی دے چکے تھے۔

خیال رہے کہ تھریسا مے اور ان کی کابینہ چاہتی ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین بریگزٹ کے بعد بھی آزاد تجارتی معاہدوں پر عمل پیرا رہیں۔ لیکن وزیر اعظم کی متنازعہ تجویز پر ڈیوڈ ڈیوس نے مہر ثبت کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 44 برس کے ڈومینک راب پیشے سے وکیل ہیں، جنہوں نے سنہ 2010 میں برطانوی سیاست میں قدم رکھا اور ایم پی منتخب ہوئے۔ ڈومینک راب سنہ 2015 سے برطانیہ کی وفاقی کابینہ میں وزیر انصاف اور وزیر ہاوسنگ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں