ہوٹل کا کھانا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار -
The news is by your side.

Advertisement

ہوٹل کا کھانا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار

لندن: برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریسٹورنٹ کا کھانا انسانی صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ریسٹورنٹ میں ملنے والا کھانا فاسٹ فوڈ سے بھی زیادہ مضر ہے ، یہ انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف لیورپول کے ماہرینِ صحت نے مختلف ہوٹلز سے ملنے والے کھانوں کا مشاہدہ کیا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ریسٹورنٹ سے ملنے والے کھانے میں اوسطاً 1033 کیلوریز موجود ہوتی ہیں جبکہ انسانی جسم کو بیک وقت 600 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کھانے کے مضر صحت ہونے کی افواہیں، سوشل میڈیا صارفین کو حکومت نے متنبہ کردیا

ماہرین کے مطابق فاسٹ فوڈ میں شامل اشیاء میں 751 کیلوریز ہوتی ہیں جو ویسے ہی انسانی صحت کے لیے مضر ہیں اور ان کے استعمال سے مختلف امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد کھانوں کا مشاہدہ کیا جن میں 1000 سے زائد کیلوریز پائی گئیں جبکہ ایک ہی کھانا ایسا تھا جو انسان کے لیے قابل استعمال تھا۔

پروفیسر ایرک راہن سن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی تحقیق میں میٹھے اور سافٹ ڈرنک کی کیلوریز کو تو شامل ہی نہیں کیا، یہ روز مرہ میں استعمال ہونے والے کھانے ہیں جن کے نتائج حیران کُن اور تشیویشناک ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ہم فاسٹ فوڈ کھانے سے رکتے کیوں نہیں؟

ڈاکر راہن سن کا کہنا تھا کہ ’حکومتوں کو قانون سازی کرنی ہوگی کہ وہ ہوٹل مالکان کو تنبیہ کریں وہ کیلوریز کی مقدار کے حوالے سے گاہک کو لازم آگاہ کریں تاکہ ہر ایک اپنی صحت کا خود بھی خیال رکھے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں