The news is by your side.

Advertisement

پلوامہ حملے کا انتقام، بھارتی جیل میں قید پاکستانی قیدی ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں قتل

نئی دہلی : بھارتی انتہا پسندوں نے پلوامہ حملے کا بدلہ لینے کےلیے جیل میں قید پاکستانی شہری کو بے دردی سے قتل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور ظلم و بربریت جاری تھا تاہم اب بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی شہری بھی ہندو انتہا پسندوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست راجھستان کے دارالحکومت جے پور کی جیل میں قید پاکستانی شہری شکور اللہ کو ساتھیوں قیدیوں  نے بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے باعث پاکستانی شہری کو سر میں شدید زخم آئے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شکور اللہ جیل میں جاں بحق ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جے پور جیل حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

بھارت میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دینے والے سابق سفیر  عبدالباسط کا کہنا تھا کہ عوام کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں بھارتی حکومت کا مؤقف ہی دہشت گردی اور انتہاپسندی پر مبنی ہے۔

سابق سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو جے پور کی جیل میں قید شکور اللہ کے قتل میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں موجود بھارتی سفیر کو طلب کرکے واقعے پر شدید احتجاج کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکا، 42 بھارتی فوجی ہلاک

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پلواما میں بھارتی فوجیوں کی بس کوکاربم سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں بس مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی اور ساتھ موجود پانچ مزید گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، دھماکے میں 42 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

بعد ازاں ہندو انتہا پسندوں نے کشمیریوں پر حملے اور املاک کو نذر آتش کرنا شروع کردیا تھا جبکہ کشمیری طلبہ و طالبات کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی بھارت کو پلواماحملے کی تحقیقات کی پیش کش

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگائےجانے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر بھارت کے پاس پلواما حملے کے ثبوت ہے تو پیش کرے ہم کارروائی کریں گے، بھارت نے پاکستان پرحملہ کیاتوجواب دینےکاسوچیں گےنہیں بلکہ جواب دیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ  یہ نیاپاکستان اور نیا مائنڈسیٹ ہے، بھارت سے پوچھناچاہتا ہوں کیا ماضی میں ہی پھنسے رہنا ہے؟ کیا بھارت نے جب بھی کوئی واقعہ ہونا ہے اس کاالزام پاکستان پرلگاناہے، ہماری سوچ ہےکوئی یہاں سے باہر حملے کرے نہ یہاں دہشت گردی کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں