The news is by your side.

Advertisement

درویشوں کی پول کھولتا کچھوا اور سید کاشف رضا

تبصرہ نگار: بلال حسن بھٹی

سید کاشف رضا کراچی میں مقیم شاعر، ادیب، مترجم اور صحافی ہیں۔ چار درویش اور ایک کچھوا سے پہلے ان کے دو شعری مجموعے ”محبت کا محل وقوع“ اور ”ممنوع موسموں کی کتاب“  چھپ چُکے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ کئی سفری کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے کراچی ریویو کے نام سے ایک رسالہ نکالا ہے، جس میں مختلف کتابوں پر مبنی ریویو اور کسی ایک بڑے ادیب کے لیے ایک گوشہ مختص کیا گیا ہے۔ وہ نوم چومسکی کی دو کتابوں کا اردو ترجمہ بھی کر چکے ہیں، جبکہ محمد حنیف کے ناول A Case of Exploding Mangoes کا ترجمہ عن قریب مکتبہ دانیال سے شائع کیا جائے گا۔

چار درویش اور ایک کچھوا کے پہلے باب میں راوی کا بیان قاری کو اپنی کہانی بیان کرنے کے حرص میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ بہ قول راوی کے، مل جل کر دعوت اڑانے کا مزا ہی اپنا ہے۔ پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ راوی کا ابتدائیہ قاری کے لیے appetizer کے طور پر لکھا گیا ہے۔

ناول نگار: سید کاشف رضا

ناول نگار، جو خود راوی بھی ہے، ناول کا واحد راوی نہیں، بلکہ چار درویش بھی ہیں، جو اپنی کہانی خود سناتے ہیں۔ وہاں ایک کچھوا بھی بیٹھا ہوا ہے، جو کہانی کو اس کی اصلی شکل میں دکھانے کا متمنی ہے۔ وہ راوی کی اجارہ داری کو توڑنے کا کام کرتا ہے۔ جب بھی راوی یا کوئی کردار حقیقت سے ہٹ کر، اپنا آپ بچا کر یک طرفہ سچ بولتا ہے تو کچھوا، جس کا نام ارشمیدش ہے، ہمیں راوی کی سرزنش کرتا نظر آتا ہے۔ راویوں کا اپنے الفاظ میں اپنا تعارف اور ارشمیدش کی سچائی ہمیں ہر انسان کی ایک ہی واقعے پر اپنا نقطہ نگاہ، اپنی حقیقت رکھنے کی سمت اشارہ کرتی ہے۔ حقیقت جو اس قدر وسیع اور متنوع ہوتی ہے کہ اسے مکمل طور پر بیان کرنا یا قلم بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ارسطو کے بہ قول، آرٹ میں حقیقت کی ایک چھوٹی لیکن متوازن شکل ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔ یہی کوشش سید کاشف رضا اپنے ناول میں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ سماجی حقیقت کا آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حقیقت چاہے مکمل نہ ہو لیکن یہ حقیقت کی کوئی نا کوئی شکل ضرور ہے۔ ناول میں بیان کی گئی حقیقتیں بہت حد تک ہمارے معاشرے کی آئینہ دار ہیں۔ یہ ناول ہمارے مروجہ اقدار، طے شدہ اخلاقیات اور معاشرے کے حسن کو گہنا دینے والے حادثات کو اپنا موضوع بنائے ہوئے۔ جب کوئی لکھاری کسی بڑے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے تو وہ کچھ نا کچھ سبق دینے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ سبق دینے میں اس قدر مگن ہو جاتا ہے کہ کہانی کا پلاٹ کرداروں پر بھی حاوی ہوتا نظر آتا ہے۔ چار درویش اور ایک کچھوے میں لکھاری کی سبق آموز اجارہ داری بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

تبصرہ نگار

ناول صرف جنسی مہمات، جذباتی تعلقات اور اندرونی کشمکش کے بارے میں نہیں ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے آپ سیاست، دہشت گردی، فرقہ ورانہ تعصب جابجا نظر آئے گا۔ غربت کے انسانی رویوں پر اثرات اور کس طرح عسرت اور  طنز انسانی رویوں میں شدت لاتا ہے، یہ سب ہم ناول میں دیکھ سکتے ہیں۔ ناول کی زبان دلچسپ، اجڈ اور منفرد ہے۔ لطیف اور خوبصورت جذباتی واقعات کا بیان اور معاشرتی ناانصافیوں سے مجروح ہونے والے احساسات کو بیان کرنے کے لیے زبان پر عبور حاصل ہونا لازم ہے۔ زبان کے اس تنوع کی وجہ ناول نگار کا گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہونا ہے۔ اپنے والد کی نوکری کی وجہ سے ناول نگار نے مختلف شہروں میں اپنی جوانی کے دن گزارے ہیں، لہٰذا ان کے یہ تجربات منظر نگاری کی عکاسی کرتے ہوئے اور کرداروں کے درمیان مکالمے کرواتے ہوئے عیاں ہوتے ہیں۔ کراچی، پنڈی اور منڈی بہاولدین کے رہنے والوں کے زندگی گزارنے کے طریقے یکسر مختلف ہیں۔ ان کے خیالات، تصورات اور مسائل بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، یہ تنوع تقاضا کرتا ہے کہ منڈی بہاؤالدین، پنڈی اور کراچی کے لوگوں، وہاں کی سڑکوں، پگ ڈنڈیوں اور اردگرد کے مناظر کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کی زبان و بیان اور زمان و مکان کا خیال رکھا جائے۔ ناول میں جو چیز زبان کو دلچسپ بناتی ہے، وہ اس کا کرداروں کے ساتھ ساتھ مسلسل بدلتے رہنا کی خوبی ہے۔

ناول نگار، جو خود راوی بھی ہے، ناول کا واحد راوی نہیں، بلکہ چار درویش بھی ہیں، جو اپنی کہانی خود سناتے ہیں۔ وہاں ایک کچھوا بھی بیٹھا ہوا ہے، جو کہانی کو اس کی اصلی شکل میں دکھانے کا متمنی ہے۔ وہ راوی کی اجارہ داری کو توڑنے کا کام کرتا ہے۔

بالا ہو یا عالمگیر، ان کی زبان بالکل دیہات سے تعلق رکھنے والوں جیسی ہے۔ پھر جب ان کے حالات و واقعات بتائے جاتے ہیں، تو دیہات میں استعمال ہونے والے الفاظ حقیقی انداز بیان میں ملیں گے۔ منڈی بہاؤالدین کے ایک قصبے سے جب قتل کر کے بالا نکلتا ہے، تو وہ بڑی بڑی کوٹھیاں دیکھتا ہے. منڈی بہاؤالدین اور گجرات کے علاقے میں رہنے والوں کی اکثریت باہر کے ممالک میں رہتی ہے اور بڑی کوٹھیاں اس علاقے کی ایک پہچان بن چکی ہے۔ بالے کی کہانی میں پنجابی سلینگ کا استعمال خواہ مخواہ نہیں، بلکہ حالات اور واقعات میں اس طرح فٹ ہے کہ پڑھتے ہوئے قاری کو بالکل بھی انجان محسوس نہیں ہوتا۔

آفتاب اقبال فلسفے کا استاد ہے، تو اس کی باتوں میں فلسفانہ رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ جاوید اور مشعال کی ایس ایم ایس پر کی جانے والی بات چیت براہ راست رومن انگلش میں لکھی گئی ہے۔ آپ اس بات چیت کو اتنی ہی رفتار میں پڑھیں گے، جتنی رفتار سے آپ کسی کا موبائل اٹھا کر اس کے پیغامات پڑھتے ہیں. ارشمیدش کی صورت کچھوا ہمیں انگلش بھگارتا نظر آتا ہے۔ یہ سب قاری کو کہانی کے قریب کر دیتا ہے۔

ناول کے ہر باب کا آغاز ستاں دال کے ناول سرخ و سیاہ کی طرح ایک کوٹیشن سے ہوتا ہے، لیکن یہاں فرق یہ ہے کہ صرف بودریغ کے اقتباسات کو کوٹ کیا گیا ہے۔ وہ اقتباسات بھی صرف حقیقت کی عکاسی بارے  میں ہیں۔ اس ناول میں جہاں آپ کو بالے اور زرینہ جیسے کرداروں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے، وہیں آپ ارسطو، افلاطون، بالزاک، بودریغ اور لوئیس بورخیس کے ساتھ ساتھ میلان کنڈیرا جیسے عظیم فلاسفروں اور فکشن نگاروں سے بھی واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ کہیں دوستوفیسکی جیسے عہد ساز ناول نگار، فرائیڈ جیسے نفسیات دان اور ڈیکارٹ جیسے فلسفی کے مشہور اقوال بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

بین الاقوامی ادب اور فلسفے کی کہانیوں کو برمحل اور خوب صورت  انداز میں کہانی کا حصہ بنانا اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ ناول کے کردار تھوڑے ہیں، لیکن ان ہی کرداروں سے بڑے بڑے بیانیے جیسا کہ رومان پرستی کی دنیا، دہشت گردی سے متاثرہ ہونا، فرقہ واریت کے اثرات، غربت سے پیدا ہونی والی خلفشار اور میڈیا میں پھیلائی جانے والی ہیجانی کیفیات کے بارے میں سب کچھ کہلوا لیا گیا۔

ناول کا پہلا کردار جاوید اقبال ہے، جو کراچی میں ایک صحافی ہے۔ جاوید اقبال کا کردار پدرسری معاشرے میں رہنے والے مرد کی دورنگی واضح کرتا ہے۔ وہ ایک سے زیادہ عورتوں سے تعلقات رکھن کا قائل ہے، لیکن خود اپنی گرل فرینڈ مشعال کے آوٹ فٹ کو نامناسب سمجھتے ہوئے اس پر کُڑھتا رہتا ہے۔

اس کی ہیجانی کیفیت، رجعت پسند خیالات، حسد اور لذت کی شدید خواہش آخر میں اس کے اور مشعال کے رشتے میں دراڑ ڈالتی ہے۔ زرینہ کے ساتھ جاوید کے تعلقات کا آغاز اور اختتام حقیقت کے قریب تر ہے۔

آفتاب اقبال کا کردار ناول کے فلسفے کو آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ وہ فلسفہ ہے حقیت کو مختلف پہلوؤں میں دیکھنے کا فلسفہ۔ آفتاب اقبال فلسفے کا ایک پروفیسر ہے، لہٰذا اس کے کردار کے ذریعے ناول نگار نے کسی فن میں موجود حقیقت کے مختلف زاویوں اور حقیقت کی مقدار کے بارے میں بحث کی ہے۔ آفتاب اقبال فلسفے کا طالب علم ہونے اور ایک جدوجہد بھری زندگی گزارنے کی وجہ سے چالیس سال کی عمر تک کنوارا ہے۔ اس کی شخصیت میں دراڑ ایک خوبصورت آنکھوں والی سٹوڈنٹ نے ڈالی تھی۔ سلمیٰ ایک خوبصورت، ذہین اور عبائے میں خود چھپائے ہوئے ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں سے اپنی طرف کھینچنے کا فن رکھتی ہے۔

ان دو کرداروں کی باہمی کش مکش سے فرقہ ورانہ تفریق، اس سے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو منظر کیا گیا ہے.

بالا  دیہاتی پس منظر رکھنے والا ایک مضبوط کردار ہے۔ بالے کو گالیوں سے پکارا جاتا ہے. ناول نگار نے اس کردار سے دہشت گردی کی عفریت، غربت اور غریبوں کے ساتھ ہونے والے رویے کی عکاسی کی ہے۔ کس طرح غربت تعصب اور نفرت انسان کو قاتل بناتے ہیں۔ ایک دفعہ دہشت گردی کے نیٹ ورک میں پھنس کر باہر نکلنا کس قدر مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے. آخر میں یہی بالا دہشت گرد بن کر بینظیر پر سانحہ کارساز میں حملہ کرنے والوں میں شامل نظر آتا ہے۔

آخری اور چوتھا درویش اوپر والے تینوں درویشوں کا باپ اقبال محمد خان کا کردار ہے۔ جو ایک تحصیل دار ہے۔ اقبال محمد خان رنگین مزاج شخص ہے، ارشمیدش جو کہ چار درویشوں کے ساتھ موجود ایک کچھوے کا نام ہے، ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔

ناول کی ایک خاص چیز اس کے زنانہ کردار  ہیں۔ یہ کردار مضبوط اور بعض مقامات پر مردوں کو چیلنج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں

کسی جانور کا ایسا شاندار استعمال اردو ادب میں کم ہی پڑھنے کو ملا۔ یہ کچھوا کوئی فلسفی یا بہت عقل مند ہے یا نہیں لیکن یہ کچھوا ناول نگار جو کہ راوی ہے اس کو متوازن اور مبنی بر حقیقت کہانی کہنے میں خوامخواہ مدد کرتا رہتا ہے۔

بعض اوقات کچھوے کا کردار راوی کے کردار پر حاوی ہوتا نظر آتا ہے تو کبھی راوی ہمیں کچھوے کے آگے ہتھیار ڈلاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راوی کہتا ہے: ”کسی کی اولاد بھی اس کے ہاتھ سے اس قدر نہیں نکلتی جس قدر یہ کچھوا میرے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے“۔ 

ناول کی ایک خاص چیز اس کے زنانہ کردار  ہیں۔ یہ کردار مضبوط اور بعض مقامات پر مردوں کو چیلنج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سلمیٰ اور مشعال جہاں پڑھی لکھی، پر اعتماد اور بولڈ ہونے کے ساتھ ساتھ خود کمانے والی  خواتین ہیں، تو دوسری طرف امتہ الکریم اور سلطانہ جیسی خواتین بھی خوددار اور باہمت ہیں۔ جنھیں اولاد کو پالنے اور جینے کے لیے کسی مردانہ سہارے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اپنی تمام تر چالاکی اور تجربہ کاری کے باوجود جاوید اقبال مشعال کے پیچھے بھاگتا ہے اور آخر کار ہار جاتا ہے۔ اقبال محمد خان سلطانہ کی ذہانت وجاہت اور ساڑھی باندھنے کا یوں دیوانہ ہوتا ہے کہ وہ اس کا ہو کر رہنا چاہتا ہے۔ آخر کار وہ اس کے خواب دیکھتا ہوا مر جاتا ہے۔ خواب جو اس ناول میں ککی جیسے عام کردار سے لے کر جاوید اقبال اور اقبال احمد جیسے کرداروں کی زندگیوں ہلچل مچانے پر قادر ہوتے ہیں۔

ناول پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے دہشت گردی، فرقہ واریت، رومانوی ایڈوینچر اور میڈیا کے کردار میں موجود حقائق کو دکھانے اور سماجی ٹیبوز کو توڑنے کے لیے یہ ساری کہانی بننے کا سوچا تھا، یا جیسے ناول نگار نے پہلے سوچ رکھا ہو کہ وہ کن کن مسائل کا ذکر کرے گا اور پھر یہ ساری کہانی ان مسائل کو اجاگر کرنے اور بات کرنے کے لیے ان کرداروں کے اردگرد بن دی گئی ہے۔

اس ناول میں مرکزی مقام بے نظیر پر ہونے والا سانحہ کارساز اور لیاقت باغ والا بم دھماکے ہیں۔

سید کاشف رضا کے اس ناول کو آپ Vulgar کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر حقیقت کو اس کے قریب ترین زاویے سے دکھانا ولگیرٹی ہے, تو شاید یہ ناول ایسا کچھ ہو گا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ناول کو شروع کریں اور آپ کو اس کی حقیقت نگاری اور انسانی جذبات کو پاکیزہ محبت کے پردے میں چھپانے کی بجائے عیاں کرنے کے فن میں ایسے کھو جائیں کہ ناول ختم کر کے سانس لیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں