The news is by your side.

Advertisement

جاذب و جمیل اور پُرکشش رائن کی کہانی جو دنیا بھر میں‌ مشہور ہے!

دریائے رائن کے قدرتی حُسن اور اطراف و اکناف کی دل آویز خوب صورتی نے کسے اپنا اسیر نہیں کیا۔ ایک زمانہ تھا جب مناظرِ فطرت کے شیدائی اور سیّاحت کے شوقین افراد کے ساتھ فن کار بھی خاص طور پر جرمنی میں اس مشہور دریا کی سیر اور اپنے فن کو آزمانے کے لیے آتے تھے۔

یہ آبی گزر گاہ سوئٹزر لینڈ میں اپنی سحر انگیزی کے لیے مشہور الپس کے پہاڑی سلسلے سے نکلتا ہے اور پہلے سوئٹزر لینڈ اور پھر فرانس سے ہوتا ہوا جرمنی میں بہتے ہوئے نیدر لینڈز سے گزر کر بحیرۂ شمال سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔ یہ یورپ کا 12 واں سب سے بڑا دریا ہے جو 1233 کلو میٹر طویل ہے۔

یہ قدیم زمانے سے جہاز رانی اور تجارت کا ذریعہ رہا ہے اور جرمنی کا سب سے بڑا دریا ہے۔ دریائے رائن سوئٹزر لینڈ، آسٹریا اور جرمنی کی سرحدوں پر مشہور جھیل کونسٹانس بھی تشکیل دیتا ہے جو جنوب مغربی جرمنی کے لیے پینے کے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

رائن کے کنارے فطرت کی رنگینوں سے لبریز رہے ہیں اور اس کے اطراف قدرتی ماحول کی کشش نے بالخصوص 18 ویں اور 19 ویں صدی میں ہر خاص‌ و عام کو متاثر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جرمنی اور دور دراز سے فن کار بھی یہاں‌ سیر و تفریح کو آیا کرتے تھے۔ ان میں‌ مصوّر، ادیب اور شاعر شامل تھے جو قدرتی مناظر کو کینوس پر اتارتے، اور یہاں شاعری کرتے تھے۔ 19 ویں صدی میں دریائے رائن کی مقناطیسی کشش نے فن کاروں‌ کے ساتھ محققّین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔

دریائے رائن کے دونوں کناروں پر موجود چٹانیں، وادیاں اور اونچے پہاڑ اور کسی زمانے میں یہاں‌ تعمیر کیے گئے قلعے آنے والوں کو اپنے سحر میں‌ گرفتار کرلیتے۔

کہتے ہیں اس دریا اور قدرتی حسن کی شہرت کا سبب وہ ولندیزی مصوّر بنے جو 18 ویں صدی عیسوی میں‌ یہاں‌ آنے لگے تھے اور انھوں‌ نے یہاں کی منظر کشی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان مصوّروں کو ایمسٹرڈم کے جغرافیہ دان یہاں‌ بھیجتے تھے، اور ان سے دریا اور اس علاقے کے مختلف مقامات کی تصاویر بنواتے تھے۔ ولندیزی مصوّر یہ کام بامعاوضہ کرتے تھے۔ بعد میں‌ جرمن آرٹسٹوں نے بھی یہ سلسلہ شروع کردیا اور پھر دریائے رائن سبھی کا محبوب بن گیا۔

رائن اور اس کا کنارہ بے پناہ دل کش تھا۔ رائن کا وسطی حصّہ اس علاقے کے ابتدائی سیّاحوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ اٹھارویں صدی میں اُس دور کے بے شمار رئیس اور امرا دریا کی سیر کو آنے لگے اور اس خطّے کی خوب صورتی سے واقف ہوئے۔ یہاں فن پارے اور شاعری تخلیق ہوئی، فلسفیوں نے کائنات پر غور و فکر کیا اور کئی عقدے حل کیے۔

آج ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے جس طرح خشکی پر کئی مسائل سر اٹھا چکے ہیں، اسی طرح سمندر، دریا اور جھیلیں بھی اپنی آب و تاب کھو چکے ہیں اور ان کا حسن و جمال ماند پڑ چکا ہے۔ کہتے ہیں‌ 1810ء میں اس دریا کو سیدھا کرنے کا کام شروع کر دیا گیا تھا جس کے بعد یہ ایک مصروف آبی گزر گاہ بنتا چلا گیا۔ آج یہ دریا بھی انہی پہاڑی سلسلوں سے ہوکر اپنے راستے پر بہتا چلا آتا ہے، لیکن شاید اس رنگینی اور جاذبیت اب پہلے جیسی نہیں‌ رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں