The news is by your side.

دنیا بھر میں امیروں غریبوں کے درمیان توازن میں مزید اضافہ

لندن : اقتصادی ناہمواری کے حوالے سے حالات کا جائزہ لینے والے عالمی ادارے آکسفیم نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا میں امیر و غریب کے درمیان عدم مساوات اور مالیاتی فرق کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔

برطانوی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے سال دوہزار بیس سے اب تک دنیا کی دو تہائی دولت یعنی بیالیس کھرب ڈالر صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس جمع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ارب پتی افراد کی دولت میں یومیہ دو اعشاریہ سات بلین ڈالر کے حساب سے اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک اعشاریہ سات ارب ورکرز ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں مہنگائی کی شرح تنخواہ سے زائد ہے۔

اس کے علاوہ دنیا کے نصف ارب پتی افراد پر کوئی وراثتی ٹیکس بھی نہیں ہے، کروڑ پتی اور ارب پتی افراد پر پانچ فیصد سالانہ ٹیکس سے ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر اکٹھا کیا جاسکتا ہے جو دو ارب لوگوں کو غربت سے نکالنے کیلئے کافی ہے۔

آکسفیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے یہ دہائی ارب پتی افراد کے لیے ابھی تک بہترین ثابت ہو رہی ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کی نئی دولت کا 80فیصد حصہ آج بھی ان افراد تک پہنچ رہا ہے جو پہلے ہی امیر ترین سمجھے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں