کراچی: شہر قائد کے علاقے فقیرا گوٹھ، تھانہ سائٹ سپر ہائی وے کی حدود میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک حاملہ خاتون کو قتل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر ڈکیتی مزاحمت کے دوران شہریوں کے قتل کا سفاک سلسلہ نہیں رک سکا ہے، لٹیرے اب بھی مزاحمت پر شہریوں کو گولی مار کر قتل کر کے فرار ہو جاتے ہیں، حالیہ واقعے کے ساتھ رواں سال ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق شہریوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات 2 موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فقیرا گوٹھ میں راہگیر میاں بیوی کو لوٹنے کی کوشش کی، لیکن مزاحمت پر فائرنگ سے 25 سال کی صائمہ زخمی ہو گئیں، جو بعد میں دم توڑ گئیں۔
کراچی: مواچھ گوٹھ میں کمسن بچے کی مین ہول میں گرنے کی فوٹیج سامنے آگئی
خاتون کے شوہر عرفان نے اپنے بیان میں کہا ’’مقتولہ صائمہ حاملہ تھی جسے اسپتال لے کر جا رہا تھا، ایک موٹر سائیکل پر 2 ملزمان آئے اور لوٹ مار کرنے لگے، ملزمان نے میرا موبائل چھین لیا تھا اور اہلیہ صائمہ کا پرس چھین رہے تھے۔‘‘
غم زدہ عرفان نے بتایا ’’اہلیہ صائمہ نے پرس چھیننے والے ڈاکو کو دھکا دیا، تو وہ گر گیا، جس پر اس نے صائمہ پر فائرنگ کر دی۔‘‘ عرفان نے مطالبہ کیا کہ ڈاکوؤں نے 3 بچوں کی ماں کو قتل کیا ہے، ان کو پکڑ کر سخت سزا دی جائے۔