The news is by your side.

Advertisement

ڈھاکا: روہنگیامسلمانوں کی کشتی الٹ گئی،16افرادجاں بحق

ڈھاکا:بنگلہ دیشی ساحل پر روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی الٹ گئی ، جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت 16افراد جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق میانمار میں انسانیت سوز سلوک سے جان بچا کر روہنگیا مہاجرین سمندری راستے سے بنگلا دیش پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ گزینوں کی کشتی بنگلہ دیشی ساحل کے قریب چٹان سے ٹکرا کر الٹ گئی۔

کشتی الٹنے سے 16افراد جاں بحق ہوگئے ، جن میں نو بچے اورسات خواتین شامل ہیں۔

زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ ساحل سے کچھ فاصلے پر کشتی کسی ابھری ہوئی شے سے ٹکرا کر الٹ گئی جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔

کشتی میں سوار چھتیس افراد کو بچالیا گیا جبکہ لاپتہ افراد کی تلاشی کیلئے ریسکیوآپریشن جاری ہے، کشتی میں  130افراد سوار تھے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل بھی متعدد بار بنگلادیش ہجرت کرنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی ڈوبنے کے واقعات پیش آچکے ہیں ، جس میں درجنوں  روہنگیا پناہ گزینوں اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔


مزید پڑھیں: روہنگیا مسلمان رات کی تاریکی میں نقل مکانی پرمجبور


دوسری جانب برما کے روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش آمد کا سلسلہ جاری ہے، بدھ انتہاپسندوں اور برمی فوج کے بہیمانہ مظالم کا شکار ہونے والوں میں خواتین،بچے مرد،بوڑھے جوان سبھی شامل ہیں۔

پناہ گزینوں کا کہنا ہے برمی فوج اوربدھ انتہاپسندوں کے خوف سے رات میں سفرکیا، روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں نذرآتش کئے جارہے ہیں لیکن امن کانوبل انعام لینے والی آنگ سانگ سوچی کواپنی حکومت اورفوج کے مظالم نظرنہیں آتے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیریس نے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار حکومت رخائن میں فوجی آپریشن ختم کرے اور امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دی جائے۔

انکا کہنا تھا کہ ہمیں میانمار سے جان بچا کربھاگنے والے روہنگیائی افراد خواتین اور بچوں سے متعلق انتہائی لرزہ خیز معلومات حاصل ہورہی ہے، روہنگیا مسلمانوں پر اسلحےسے فائرنگ، بارودی سرنگوں سے ان کی ہلاکت اور خواتین کے ساتھ زیادتی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں