site
stats
عالمی خبریں

روہنگیا مسلمانوں کے جلتے ہوئے گاؤں کی سٹیلائٹ تصاویرجاری

برما : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا مسلمانوں کے جلتے ہوئے گاؤں کی سٹیلائٹ تصاویرجاری کردیں۔

تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کے جلتے ہوئے گاؤں کی سٹیلائٹ تصاویرجاری کردیں، جو میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے جلتے گاؤں ظلم ، جبر اور بربریت کی داستان سنا رہی ہیں۔

اس سے قبل روہنگیا مسلمانوں پرمظالم کیخلاف انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی روہنگیامسلمانوں کےمعاملے پر خاموشی مجرمانہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا کے خلاف گھناؤنے مظالم فوری روکے جائے۔

ڈائریکٹر ایمنسٹی انٹرنیشنل تیرانہ حسن نے میانمار فوج کی جانب سے بنگلا دیشی سرحد کے ساتھ بارودی سرنگوں بچھانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں سے بچوں سمیت متعدد روہنگیا مسلمان ہلاک اوز زخمی ہوئے ہیں، ریاست رخائن میں بدترین صورتحال ہے۔


مزید پڑھیں : میانمار سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد چارلاکھ تک پہنچ گئی


دوسری جانب دشوار گزار اور سفر کی سختیاں جھیل کر میانمار پہنچنے والے پناہ گزین واپس اپنے گھروں کو جانے کے خواہشمند ہیں، روہنگیا مسلمانوں کا کہنا تھا کہ میانمار کے فوجیوں نے ہمارے گھروں کو جلا دیا ہے، مزاحمت کاروں کے بہانے انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نےبرما کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رکھائن میں  روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن فوری طور پر بند کردے اور کہا کہ میانمار میں مسلمانوں پر حملے ناقابل قبول ہیں، فوجی آپریشن کے نام پر روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔

انٹونیو گوٹیریس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا کے مظلم مسلمانوں کو ہرممکنہ مدد فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش کا رخ کرنے پر مجبور روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تعداد 4لاکھ تک پہنچ گئی ہے، کیمپوں میں مقیم دو لاکھ بچوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے، لاکھوں روہنگیا خواتین، بچے اور مردغذائی قلت کا شکار ہیں اور بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، شدید بارشوں نے پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top