site
stats
عالمی خبریں

بنگلا دیش: روہنگیا پناہ گزینوں کے لیڈر کوقتل کر دیا گیا

rohingians
مقتول بنگلادیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کی تحریک چلا رہا تھا

ڈھاکا: میانمار سے ہجرت کر کے بنگلادیش آنے والے روہنگیا پناہ گزین کے ایک کیمپ کے سربراہ یوسف علی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ہجرت کرکے بنگلادیش آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات اب بھی ختم نہیں ہوئیں، پناہ گزینوں کے لیڈر یوسف علی کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔  مقتول کو بنگلا دیش کے سرحدی علاقوں میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کا لیڈر تصور کیا جاتا تھا۔

مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کی اہلیہ نے کہا کہ یوسف علی میانمار بارڈر کے قریب کیمپ ’بالوکھالی‘ کےلیڈر تھے اور پناہ گزین کی وطن واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

مقتول یوسف علی کی اہلیہ جمیلہ خاتون کا کہنا تھا کہ گذشتہ دونوں 20 کے قریب نقاب پوش گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔

میانمارکی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کےقتل کا اعتراف کرلیا

مقامی میڈیا کے مطابق اس قتل کی وجہ روہنگیا کی واطن واپسی کے حق میں شروع کردہ تحریک ہوسکتی ہے، البتہ پولیس حکام نے اس قسم کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل روہنگیا پناہ گزین نے وطن واپسی کے لیے بنگلادیش حکام پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاج کیا تھا، جس میں  سینکڑوں پناہ گزین شریک تھے جن کا مطالبہ تھا کہ ان کی وطن واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔

دوسری طرف بنگلادیش حکام نے اس بات کی یقین دہانی کراوئی ہے کہ میانمار کی انتظامیہ سے بات چیت جاری ہے، جلد پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بنگلا دیش میں روہنگیا کے لیے قائم مختلف کیمس میں اس وقت  7 لاکھ سے زائد رہنگیا پناہ گزین موجود ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top