The news is by your side.

Advertisement

رولنگ کالعدم، عدم اعتماد برقرار، قومی اسمبلی بحال

سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

  • فیصلے کے اہم نکات
  • ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین سے متصادم قرار
  • قومی اسمبلی تحلیل کا فیصلہ مسترد
  • نگراں حکومت کیلئے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کالعدم
  • ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال
  • وفاقی کابینہ بحال
  • عدم اعتماد پر ووٹنگ

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نگراں حکومت کے قیام کیلئے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال کر دی۔

سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر 9 اپریل ہفتے کی صبح بجے 10 بجے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ججز نےآپس میں تفصیلی مشاورت کی ہے رولنگ سےمتعلق تفصیل بعدمیں دی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ فیصلہ سنانے سے قبل چیف جسٹس کے طلب کرنے پر سیکرٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش ہوئے۔

فیصلہ سننےکیلئے پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کےرہنماؤں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ سپریم کورٹ میں سیکیورٹی سخت کی گئی اور غیرمتعلقہ افراد کا داخلہ بند کیا گیا تھا۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری سپریم کورٹ کے احاطےمیں تعینات کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں