The news is by your side.

Advertisement

رومانیہ نے بھی اپنا سفارست خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا

بخارسٹ : امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعے فیصلے کی پیروی کرتے ہوئے رومانیہ نے بھی اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا  اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے یورپی یونین کے رکن ملک رومانیہ نے بھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے رومانیہ کا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

رومانیہ کی حکمران حماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ لیویا ڈراگانیا نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ رومانیہ نے اپنے قونصل خانے کو یروشلم منتقل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔

اگر اسرائیل اور رومانیہ کے درمیان معمالات طے ہوجاتے ہیں تو رومانیہ مقبوضہ یروشلم میں اپنے سفارت خانے کو منتقل کرنے والا پہلا بن جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کا کہنا ہے کہ ’سفارت خانوں کی یروشلم منتقلی کے حوالے سے چھ ممالک سے سنجیدہ بات چیت جاری ہے، لیکن جو دس ممالک پہلے اپنے سفارت خانے یروشلم منتقل کریں گے انہیں خاص مراعات دی جائیں گی‘۔

رومانیہ کے نائب وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یروشلم میں قونصل خانے کو منتقل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے، سفارت خانے کی منتقلی کا کام بھی شروع کردیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا علامتی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے، اسرائیل کا عالمی سطح پر بہت زیادہ اثر رسوخ ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس فیصلے سے رومانیہ کو اہم فوائد حاصل ہوں گے، یہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے،’تمام ممالک کی طرح اسرائیل کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے اپنا دارالحکومت بنائے‘۔

رومانیہ کے صدر آئی ہینس نے کہا ہے کہ ’حالیہ فیصلے کے حوالے سے انہیں آگاہ کیا گیا ہے اور نہ ہی مشورہ کیا گیا ہے، انہوں نے سرکاری عہدیداران اور سیاسی افراد خارجہ پالیسیوں، نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی کے فیصلوں پر ذمہداری اور فہم فراست کا مظاہرہ کریں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس امریکی صدر نے کہا تھاکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا معاملہ کافی عرصے سے سردخانے میں تھا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں