The news is by your side.

Advertisement

شاہی جوڑا انوکھے شاہی اصول کی خلاف ورزی کا مرتکب

لندن: ایک شاہی خاندان کے فرد کو شاہی اصول و ضوابط اور آداب کا حد خیال رکھنا پڑتا ہے تاہم برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے ایک ضروری شاہی اصول کو بالکل نظر انداز کردیا۔

یہ شاہی جوڑا بیرون ملک سفر کے دوران اپنے 4 سالہ بیٹے شہزادہ جارج کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہے جبکہ شاہی اصول کے مطابق شہزادہ جارج کو اپنے والد شہزادہ ولیم سے الگ کسی دوسرے طیارے میں سفر کرنا ضروری ہے۔

اس اصول کی وجہ خاصی دلچسپ اور کافی حد تک منطقی ہے۔ شاہی اصول کے تحت تخت کے 2 جانشین، یا تخت پر براجمان بادشاہ اور اس کا ولی عہد ایک ساتھ ایک ہی طیارے میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ایسا اس لیے ہے تاکہ اگر ہوائی جہاز کسی حادثے کا شکار ہوجائے اور تخت کے دونوں جانشینوں کی موت واقع ہوجائے تو ایسی صورت میں شاہی خاندان بحران سے دو چار ہوسکتا ہے اور تخت کے نئے وارث کا فیصلہ کرنا یقیناً ایک مشکل عمل بن جائے گا۔

تاہم کیٹ مڈلٹن اور شہزادہ ولیم بیرون ملک سفر کے دوران اپنے بیٹے جارج کو اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں اور ایک ہی طیارے میں سفر کرتے ہیں۔

یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس وقت برطانوی شاہی تخت پر ملکہ الزبتھ براجمان ہیں اور ان کی موت یا تخت سے دستبرداری کی صورت میں ان کے صاحبزادے پرنس چارلس کو بادشاہ بنایا جائے گا۔

اسی طرح شہزادہ چارلس کے بعد ان کے صاحبزادے پرنس ولیم، اور ان کے بعد ولیم کے 4 سالہ صاحبزادے جارج ولی عہد کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ مستقبل میں اسی ترتیب سے تخت نشین ہوتے جائیں گے۔

برطانوی میڈیا شاہی جوڑے کی اس خلاف ورزی کو نظر انداز کر کے یہ توجیہہ پیش کرتا ہے کہ چونکہ شہزادہ جارج ابھی نہایت کم عمر ہیں اور اپنے والدین کے بغیر سفر نہیں کر سکتے لہٰذا شاہی جوڑے کی یہ خلاف ورزی نظر انداز کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: شاہی اصول توڑنے پر کینیڈا کے گورنر پر تنقید

ہوسکتا ہے آئندہ آنے والے چند برسوں میں جب شہزادہ جارج باشعور ہوجائیں گے تو وہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح علیحدہ طیارے میں سفر کرنے لگیں گے۔

ایک ساتھ سفر نہ کرنے کا یہ اصول امریکا کے وائٹ ہاؤس میں بھی رائج ہے جہاں امریکی صدر اور نائب صدر ایک ہی طیارے میں سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

وجہ وہی کہ کسی ممکنہ فضائی حادثے اور دونوں سربراہان کی موت کی صورت میں ملک کو قیادت کے بحران سے بچایا جاسکے اور کسی ناگہانی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر کوئی ایک شخص کار مملکت سنبھالنے کا اہل ہو۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں