The news is by your side.

Advertisement

گردشی قرضے400 ارب روپے سے تجاوز کرگئے

اسلام آباد: وزارت پانی وبجلی کا کہناہےکہ موجودہ حکومت میں سرکولرڈیٹ کلیئر کیے گئےتھے جو دوبارہ 401ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔

تفصیلات کےمطابق خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت پانی و بجلی نے سرکولر ڈیٹ کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

وزارت پانی و بجلی نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں 480 ارب روپے کے زیر گردش قرضے یا سرکولر ڈیٹ کلئیر کیے گئے تھے لیکن یہ دوبارہ 401 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

وزارت پانی و بجلی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت گردشی قرضے 4 سو ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کی مد میں 237 ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ گیس کی مد میں 11 ارب روپے اور تیل کی مد میں 99 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

وزارت کے حکام نے بتایا کہ اس وقت بجلی کی پیداواری لاگت 8 روپے 52 پیسے فی یونٹ ہے جو صارفین کو 11 روپے 97 پیسے فی یونٹ کے حساب سے دی جا رہی ہے۔


گردشی قرضے میں اضافہ، بجلی گھروں کو تیل کی ترسیل معطل


وزارت پانی وبجلی کےمطابق ہائیڈل پاور سپلائی سے 4 روپے 11 پیسے، آئی پی پیز ہائیڈل سے 8 روپے 80 پیسے اور کوئلے سے 11 روپے 65 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیزل سے 16 روپے 19 پیسے، فرنس آئل سے 11 روپے 76 پیسے اور گیس سے 8 روپے 86 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

وزارت پانی و بجلی کا کہنا تھا کہ نیوکلئیر سے 5 روپے 36 پیسے، ہوا سے 17 روپے 34 پیسے، سولر سے 16 روپے 92 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

واضح رہےکہ حکام کا کہنا تھا کہ نیپرا کی جانب سے 15 اعشاریہ تین فیصد نقصانات کی اجازت ہے اصل نقصانات 17 اعشاریہ 9 فیصد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترسیلی نقصانات کے باعث چار سال میں 135 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد نقصان ہو چکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں