site
stats
پاکستان

پونے 6ارب روپے کی کرپشن کامقدمہ، شرجیل میمن اور دیگر پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

کراچی : محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے چھ ارب روپے کی کرپشن کے مقدمے میں آج بھی شرجیل میمن اور دیگر پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی جبکہ احتساب عدالت نے ملزمان کواثر ورسوخ کے استعمال سے بازرہنے کی وارننگ دے دی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ اطلاعات سندھ میں پانچ ارب پچھترکروڑروپے کرپشن ریفرنس کی سماعت ہوئی ، شرجیل میمن سمیت تمام ملزمان کوعدالت میں پیش کردیاگیا۔

ملزم گلزارعلی اوروکلاء کی عدم پیشی پرعدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کئی وکلاموجود نہیں،لگتا ہے آپ لوگوں کاکیس چلانے کاموڈ نہیں، پہلے توہین عدالت کی درخواست کر لیتے ہیں۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم بیمار ہے اسپتال سےلانےکیلئے گاڑی گئی ہے، جس پرجج نے ریماکس دیئے یہاں ایک قانون غریب کا ہے ایک امیر کا، مجھ پراثرورسوخ استعمال کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

جج نے ریماکس دیئے کہ کتنے افراد کو اسپتال بھیجیں، کچھ باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں کسی ملزم کواعتماد نہیں تودوسری عدالت میں درخواست دائرکردے۔ میری عدالت میں سفارش نہیں چلے گی، کچھ لوگ اسپتالوں میں داخل ہوناچاہتے ہیں، جیلوں میں بھی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پرسارے وکلااور ملزم موجود رہیں فردجرم عائد کی جائیگی۔

بعد ازاں کیس کی سماعت23دسمبرتک ملتوی کردی ۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ میں کرپشن کیس میں نامزد شرجیل میمن سمیت 11 ملزمان کی عبوری ضمانت میں توثیق کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد احاطہ عدالت سے شرجیل میمن کو نیب حکام نے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شرجیل میمن پر محکمہ اطلاعات سندھ میں کرپشن کا الزام ہے، چنانچہ مارچ 2017 میں پیپلز پارٹی کے رہنما کو وطن واپس پہنچنے پر نیب نےاسلام آباد ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا تھا تاہم ضمانتی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ شرجیل میمن سندھ حکومت کے وزیراطلاعات اور وزیر بلدیات بھی رہے ہیں اور 12 دیگر افراد سمیت ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جس پر نیب نے شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کررکھا ہے اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل
ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top