الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری،اپوزیشن اور حکومت نے تین تین ممکنہ نام دے دیے -
The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری،اپوزیشن اور حکومت نے تین تین ممکنہ نام دے دیے

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن نے چاروں صوبوں الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری کے لیے اپنی اپنی جانب سے تین تین نام دے دیے ہیں کل یہ نام اسپیکر آفس کو دیے جائیں گے الیکشن کمیشن سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پیرکوساڑھے10بجے طے ہوا ہے،

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن تمام اراکین 13 جون 2016 کو ریٹائرڈ ہوگئے تھے جس کے بعد سے الیکشن کمیشن ٍغیرفعال ہے،آئینی طور پر اراکین کی تقرری 45 دن کے اندر اندر حکوت اور اپوزیشن کی مشاورت کے بعد کر لینا ضروری ہے تا ہم 39 دن ہونے کو آئے ہیں اب تک الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری نہیں کی جا سکی ہے تا ہم اب حکومت اور اپوزیشن نے چاروں صوبوں کے اراکین کے لیے تین تین ناموں کو فائنل کرکے کل اسپیکر آفس میں جمع کرانے کا عندیہ دے دیا ہے

مزید جانیے : الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران ریٹائرڈ ،الیکشن کمیشن عملی طور پر غیر فعال

اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اسلام آناد میں مشرکہ طور پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تفصیلات بتائیں اس موقع پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری ایک بڑی ذمہ داری ہے اور ہم نے کوشش کی ہے کہ امانت میں خیانت نہ ہو ہم نے چاروں صوبوں کے لیے تین تین نام دیے ہیں جن میں ٹیکنو کریٹس اور بیروکریٹس بھی شامل ہیں یہ تمام لوگ اپنے اپنے شعبے کے ماہر اور ایماندار شخصیت ہیں کوشش کی ہے کہ منتخب ہونے والے اراکین غیر سیاسی ہوں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اراکین الیکشن کمیشن کی تقرری آئین کی 22 ویں ترمیم کے مطابق 45 دن میں ہونا ضروری ہے بحکومت اور اپوزیشن کے نام کل اسپیکر تک پہنچ جائینگے حکومت اور اپوزیشن مل کر الیکشن کمیشن کے ممبران کے نام پر متفق ہوں گے ہر پارلیمانی جماعت کی جانب سے نام آگئے ہیں،حتمی منظوری پارلیمانی کمیٹی دے گی، پیر کے روز اُن کا اجلاس 10:30 بجے ہوگی اور اسی دن یعنی 25 جولائی کو نوٹیفیکشن کے طریقہ کار کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔

تجویز کردہ اراکین کے ناموں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چار اراکین کے لیے تجویز کردہ 24 نام سربمہر لفافوں میں موجود ہیں جو 24 جولائی کو کمیٹی کے اجلاس میں کھلے جائیں گے اور تب ہی ان ناموں کا پتہ چل سکے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں