روس نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے آبائی علاقے پر تباہ کن میزائل حملہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے آبائی علاقے پر میزائل حملہ کیا ہے، جس میں 9 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے کھیل کے میدان اور چھوٹی گلیاں روسی حملے میں نشانہ بنائی گئیں، ایسے حملے اتفاقی نہیں ہو سکتے، روس جانتا ہے یہ توانائی کے تنصیبات ہیں۔
دوسری جانب روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ یوکرین اور مغربی افسران کے درمیان ہونے والی ایک میٹنگ کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، انتہائی درست نشانہ تھا، شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں یونٹ کمانڈرز اور مغربی انسٹرکٹرز کی میٹنگ ہو رہی تھی۔
چین گھبرا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
دی گارڈین کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ رواں سال یہ ماسکو کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے، علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ صدر ولودیمیر زیلینسکی کے آبائی شہر میں حملے سے رہائشی بلاکس کو نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی، زخمیوں میں 3 ماہ کے بچے بھی شامل ہیں۔
روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شہر کریویف ریح پر حملے میں ایک فوجی میٹنگ کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس دعوے کو یوکرین کی فوج نے ’’غلط معلومات‘‘ قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ دی ماسکو ٹائمز کے مطابق گزشتہ ماہ 6 مارچ کو بھی زیلنسکی کے آبائی شہر میں واقع ایک ہوٹل پر روسی میزائل حملے میں 3 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے تھے۔