The news is by your side.

Advertisement

کیا پیوٹن یوکرین پر ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں؟

کیا پیوٹن یوکرین پر ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں؟ اس مہلک سوال نے عالمی سطح پر جنگوں کو ناپسند کرنے اور امن کے بارے میں سوچنے والے افراد کے اذہان کو جکڑا ہوا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ یوکرین پر حملے کے فوراً بعد، صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی "ڈیٹرنٹ فورسز” یعنی جوہری ہتھیاروں سے لیس فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کی تھی، اسی سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ ماسکو ‘طاقت ور’ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کیا ہیں؟

بی بی سی سیکیورٹی کوریسپانڈنٹ گورڈن کوریرا کے مطابق ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار وہ ہیں جو نسبتاً کم فاصلے پر استعمال کیے جا سکتے ہیں، اور اس کے استعمال کا مقصد فوری اور مؤثر نتائج کا حصول ہوتا ہے، ان کا استعمال جارحانہ صورت میں بھی ہوتا ہے اور دفاعی صورت میں بھی۔ یہی حیثیت انھیں ‘اسٹریٹیجک’ جوہری ہتھیاروں سے ممتاز کرتی ہے۔

اس کے باوجود ‘ٹیکٹیکل’ کی اصطلاح میں ہتھیاروں کی بہت سی اقسام شامل ہیں، بشمول چھوٹے بم اور میزائل جو ‘میدان جنگ’ کے ہتھیاروں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

روس کے پاس کون سے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار ہیں؟

خیال کیا جاتا ہے کہ روس کے پاس تقریباً 2000 ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہیں، انھیں مختلف قسم کے میزائلوں پر رکھا جا سکتا ہے، جو عام طور پر روایتی دھماکا خیز مواد پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انھیں میدان جنگ میں توپ خانے کے گولوں کے طور پر بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔

کیلیبر میزائل (SS-N-30)

انھیں ہوائی جہاز اور بحری جہازوں کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے، مثال کے طور پر تارپیڈو اور آبدوزوں کو نشانہ بنانے کے لیے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وار ہیڈز روس کی اسٹوریج والی عمارتوں میں رکھے گئے ہیں، یعنی جنگ کے لیے انھیں نکالا نہیں گیا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ روس نے اگر فیصلہ کیا تو بڑے اسٹریٹجک میزائلوں کے مقابلے میں چھوٹے ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال کرے گا۔

ان ہتھیاروں کی طاقت؟

ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار سائز اور طاقت میں بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں، سب سے چھوٹا ایک کلوٹن (kiloton) یا اس سے کم ہو سکتا ہے (ایک ہزار ٹن دھماکا خیز TNT کے برابر)، اور بڑا غالباً 100 کلوٹن جتنا بڑا ہو سکتا ہے۔ اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما میں جس بم نے تقریباً 146,000 افراد کو ہلاک کیا تھا، وہ صرف 15 کلوٹن تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ہتھیار چلائے گے تو ان کے اثرات کا انحصار وار ہیڈ کے سائز، زمین سے ان کی بلندی اور مقامی ماحول پر منحصر ہوں گے۔ روس کے سب سے بڑے اسٹریٹجک ہتھیار کم از کم 800 کلوٹن بتائے جاتے ہیں۔

پیوٹن کے بیانات

دراصل جوہری ہتھیاروں سے متعلق پیوٹن کے بیانات نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی، یہ بظاہر خوف کا احساس پیدا کرنے کی کوشش ہے، بی بی سی سیکیورٹی کوریسپانڈنٹ گورڈن کوریرا کے مطابق یہ بیانات دراصل مغرب کے لیے ایک اشارہ ہیں کہ وہ یوکرین میں مزید مداخلت سے باز رہیں، اور امریکی جاسوس اسے جوہری جنگ کی منصوبہ بندی کے طور پر نہیں دیکھ رہے۔

مختصر فاصلے والے جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے روس کے پاس 2 سسٹمز موجود ہیں:

کیلیبر میزائل (SS-N-30) یہ آبدوز اور بحری جہاز سے لانچ ہونے والا کروز میزائل سسٹم ہے۔
اس کا ہدف زمین یا سمندر دونوں مقامات پر ہے اور رینج 15 سو 2 ہزار 500 کلو میٹر تک ہے، میزائل کی لمبائی 6.2 میٹر ہے اور یہ کروز میزائل ہے۔

اسکندر ایم میزائل لانچر (SS-26 ‘Stone’)، یہ موبائل گراؤنڈ بیسڈ میزائل سسٹم ہے جس کی  رینج 400 سے 500 کلو میٹر تک ہے، اور زمین سے زمین پر ہدف بناتا ہے، میزائل کی لمبائی 7.3 میٹر ہے، اور یہ سولڈ فیول راکٹ ہے

تاہم دوسری طرف یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگرچہ امکانات کم ہیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ روس، بعض حالات میں، یوکرین میں چھوٹے ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ ہو۔ تاہم روس کا اگر نیٹو کے ساتھ تنازع ہو تو اس کا رویہ ہمیشہ جارحانہ ہوتا ہے، وہ نیٹو کو پیچھے دھکیلنے کے لیے اسی طرح کا طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ یہ طرز عمل ڈرامائی اقدامات پر مشتمل ہوتا ہے جیسا کہ میدان جنگ میں ٹیکٹیکل ہتھیار کا استعمال، یا ایسا کرنے کی دھمکی دینا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق مخالف کو اتنا ڈرایا جائے کہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو۔

اسکندر ایم میزائل لانچر (SS-26 ‘Stone’)

تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر پیوٹن کو محسوس ہوتا ہے کہ یوکرین میں ان کی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے، تو وہ تعطل کو توڑنے یا شکست سے بچنے کے لیے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کو ‘گیم چینجر’ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ممکنہ طور پر یوکرین میں یا روس میں صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

فی الوقت جوہری ماہرین کا یہی خیال ہے کہ روسی صدر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات کر کے لوگوں کو خوف زدہ کر رہے ہیں، تاہم ایک امکان کے طور پر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ معاملات اپنے قابو میں کرنے کے لیے وہ یوکرین کی زمین پر ایک جوہری ہتھیار چلا سکتے ہیں۔ کنگز کالج لندن کی نیوکلیئر ماہر ڈاکٹر ہیدر ولیمز کہتی ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پیوٹن کے لیے یوکرین میں ‘جیت’ کا کیا مطلب ہے؟ یہ ابھی واضح نہیں ہوا، اور آخر روس کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر کیا چیز مجبور کر سکتی ہے؟ خیال رہے کہ یوکرین روس تنازع پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں حکومت کا تختہ الٹنے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔

ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کا استعمال خود کو شکست ہے؟

ایک پریشان کن معاملہ یہ بھی ہے کہ روس بہت قریب ہے، کیا یوکرین میں کسی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کے استعمال کے بھیانک اثرات خود روس کی سرحدوں کو عبور نہیں کر سکتے، جب کہ پیوٹن کا دعویٰ بھی ہے کہ یوکرین روس کا حصہ ہے، پھر اپنی ہی زمین پر جوہری ہتھیار کے استعمال کے کیا معنی؟ بہرحال جوہری ماہرین کے آگے یہ سوال موجود ہے کہ کیا دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بعد پیوٹن اس ‘ممنوع’ کو کر گزرنے والا پہلا رہنما بننا چاہیں گے؟ کچھ لوگ فکر مند ہیں کیوں کہ انھوں نے وہ کام کر ڈالے ہیں جن کے بارے میں دوسروں کا خیال تھا کہ وہ نہیں کریں گے، جیسا کہ یوکرین پر حملہ یا 2018 میں سیلسبری (برطانوی شہر) میں اعصابی گیس کا (مبینہ) استعمال۔ ڈاکٹر ہیدر ولیمز کا کہنا ہے کہ روس کے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی ایک اور وجہ بھی ہے، اور وہ ہے چین۔

روس چین کی حمایت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے، جب کہ چین ‘پہلے استعمال نہ کرنے’ کے جوہری نظریہ پر عمل پیرا ہے، اس لیے ڈاکٹر ہیدر کا خیال ہے کہ اگر پیوٹن نے جوہری ہتھیار چلا دیے، تو چین کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہونا ناقابل یقین حد تک مشکل ہو جائے گا، اور ممکن ہے وہ چین کو کھو دے۔

کیا ایٹمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے؟

کوئی نہیں جانتا کہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کا استعمال کہاں تک لے جائے گا، یہ تو واضح ہے کہ پیوٹن سمیت جوہری جنگ کوئی نہیں چاہے گا، تاہم غلط حساب کتاب کی غلطی بھی ہو سکتی ہے، اگر اس کا استعمال مخالف فریق کے ہتھیار ڈالنے کے خیال سے کیا جائے تو یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ نیٹو پوری طاقت کے ساتھ یوکرین کے اندر آ کر جواب دینے لگے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ صورت حال پر اس کی گہری نظر ہے، اس کی انٹیلی جنس روسی جوہری سرگرمیوں کو بغور دیکھ رہی ہے، جیسا کہ آیا ٹیکٹیکل ہتھیاروں کو اسٹوریج سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے، یا لانچ کی جگہوں پر صورت حال میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئی، تاہم امریکا نے تاحال ایسی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔

گورڈن کوریرا نے لکھا ہے کہ امریکا اور نیٹو کسی بھی جوہری استعمال کا جواب کیسے دیں گے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ صورت حال کو مزید بڑھانا نہ چاہیں جس سے ایٹمی جنگ کا خطرہ سر پر منڈلانے لگ جائے، تاہم وہ ایک لکیر کھینچنا تو ضرور چاہیں گے، یعنی ایٹمی رد عمل کی بجائے ایک روایتی لیکن سخت رد عمل، اور پھر روس کیا کرے گا؟

برطانوی نیوکلیئر سائنس دان جیمز ایکٹن کا کہنا ہے کہ ایک بار جب آپ جوہری دہلیز عبور کر لیتے ہیں، تو پھر رکنے کا کوئی واضح مقام دکھائی نہیں دیتا۔

رپورٹ: بی بی سی

Comments

یہ بھی پڑھیں