The news is by your side.

Advertisement

کیا روس سے سستے تیل کے لیے بات ہوئی؟ حماد اظہر نے خط شیئر کر دیا

اسلام آباد: کیا پی ٹی آئی حکومت میں روس سے سستے تیل کے حصول کے لیے بات ہوئی تھی؟ حماد اظہر نے اس سلسلے میں ٹویٹر پر ایک خط شیئر کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا ہے کہ مفتاح صاحب قومی ٹی وی پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ روسی تیل کے مذاکرات کا کوئی خط یا ثبوت موجود نہیں ہے، اور یہ کہ وہ کس سے بات کریں۔

حماد اظہر نے ٹویٹر پر اپنی پوسٹ میں ایک خط شیئر کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ روس ہمیں رعایتی تیل فروخت کرنے کے لیے پُر جوش تھا، وزیر خزانہ کو روس کے وزیر توانائی سے بات کرنی چاہیے تھی۔

پٹرول پر فی لیٹر سبسڈی کتنی رہ گئی؟

حماد اظہر کی جانب سے پوسٹ میں ایک خط کا عکس بھی شیئر کیا گیا ہے، جو وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 30 مارچ 2022 کو روس کے وزیر توانائی نکولائی شولگنوف کو لکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی صدر نے یقین دلایا تھا کہ پاکستان کو تیل اور گندم 30 فی صد رعایت پر دیں گے، ہمیں روس سے یقین دہانی پر امید تھی کہ سبسڈی کم ہو جائے گی۔

شوکت ترین نے بتایا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی اور روس سے سستے تیل کے معاملات ہم نے حل کر لیے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی اور روس کے پاس جانے کو ترجیح نہ دی،یہ لوگ روس سے سستا تیل کیوں نہیں لے رہے؟

انھوں نے کہا روس نے پی ایس او کے ذریعے ایک طرف سے معاہدے کر لیے تھے، روس نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ رعایتی قیمت پر سستا تیل دیں گے، روس سے سستا تیل ملتا تو پاکستان میں 50 روپے فی لیٹر فرق پڑ جاتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں