The news is by your side.

Advertisement

روسی صدر نے عالمی طاقتوں کو ایک بار پھر آئینہ دکھادیا

ماسکو: روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہنا ہے کہ اب دنیا میں اکیلی طاقت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ یک قطبی عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے باوجود یہ دور ختم ہوگیا۔

روسی صدر نے کہا کہ یہ ایک فطری عمل ہے، یہ تبدیلیاں تاریخ کا ایک فطری دھارا ہے کیونکہ کرہ ارض کے تہذیبی تنوع دولت کو یکجا کرنا مشکل ہے۔

روسی صدر نے یوکرین کا نام لئے بغیر کہا کہ جہاں ایک واحد مضبوط طاقت کے باوجود قریبی ریاستوں کے ایک محدود دائرے کو تسلیم کرتے ہیں اور کاروبار اور بین الاقوامی تعلقات کے تمام اصولوں کی اپنے مفاد میں تشریح کرتے ہیں، ایسے عقیدوں پر مبنی دنیا یقینی طور پر غیر مستحکم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: روس کی یوکرین کو بڑی پیشکش

پیوٹن نے واضح کیا کہ سیاسی اقتصادی اور دیگر ماڈلز کے ساتھ ثقافتوں کے یہ ماڈل آج کی دنیا میں کام نہیں کرسکتے بلکہ وہ ماڈل جو دو ٹوک انداز میں بغیر کسی متبادل کے ایک مرکز سے مسلط کیےجا رہے ہیں۔

دوسری جانب روس نے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تاہم راہداریوں کے قیام کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ روس نے یوکرین پر حملے کے ساتھ بحریہ اسود میں بندرگاہوں کی بھی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے باعث یوکرینی اناج کی ترسیل رک گئی ہے، جس کی وجہ سے دنیا میں خوراک کا بحران بڑھ رہا ہے، جبکہ اناج، کھانا پکانے کے تیل، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی سطح پر گندم کی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ روس اور یوکرین کا ہے، یوکرین مکئی اور سن فلاور آئل کا بھی بڑا برآمد کنندہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں