The news is by your side.

Advertisement

پارلیمنٹ میں 68 فیصد خواتین کا ورلڈ ریکارڈ

ایک عرصے سے خواتین کی خود مختاری کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا جارہا ہے کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور حکومتی ایوانوں میں ان کی تعداد بڑھائی جائے۔

تاہم ترقی یافتہ ممالک کے برعکس مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا نے اس بات کی اہمیت کو سمجھا جہاں کی پارلیمنٹ میں اب دنیا میں سب سے زیادہ خواتین موجود ہیں۔

روانڈا ایک عرصے سے پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کے حوالے سے ورلڈ ریکارڈ کا حامل رہا ہے جہاں ارکان پارلیمنٹ میں 64 فیصد خواتین تھیں۔ گزشتہ برس ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں روانڈا نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا اور اب وہاں کی پارلیمنٹ میں 67.5 فیصد خواتین ہیں۔

80 نشستوں کے ایوان میں 54 نشستیں خواتین کے پاس ہیں، ان خواتین کو روانڈا کی تعمیر نو کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔

گو کہ روانڈا میں پارلیمانی اکثریت خواتین کے پاس ہے تاہم روانڈا خواتین کے حقوق اور خود مختاری کے حوالے سے کسی مثالی پوزیشن پر نہیں ہے، اس کے باوجود پالیسی سازی میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے روانڈا دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔

اس حوالے سے اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو یہاں بھی صورتحال پہلے سے بدتر نظر آتی ہے۔ دنیا بھر کی پارلیمان اور ایوانوں کا ریکارڈ مرتب کرنے والے ادارے انٹر پارلیمنٹری یونین کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 2017 میں پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کی فہرست میں پاکستان 89 ویں نمبر پر تھا۔

مذکورہ فہرست کے مطابق پاکستانی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی صرف 20.6 فیصد تھی۔ یعنی 342 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں صرف 70 خواتین موجود تھیں جو ملک بھر کی 10 کروڑ 13 لاکھ سے زائد (مردم شماری کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق) خواتین کی نمائندگی کر رہی تھیں۔

اب 2019 میں پاکستان اس درجہ بندی میں مزید نیچے 101 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ صنفی ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل اور قومی اداروں میں خواتین کی شمولیت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ان خواتین کی نمائندگی کرسکیں جو کمزور اور بے سہارا ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں