پاناما ڈرامے کا مرکزی کردار عمران خان اور ڈائریکٹر ملک سے باہر ہے، سعد رفیق saad-rafiq
The news is by your side.

Advertisement

پاناما ڈرامے کا مرکزی کردار عمران خان اور ڈائریکٹر ملک سے باہر ہے، سعد رفیق

اسلام آباد : وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاناما ڈرامے کا مرکزی کردارعمران خان ہیں جب کہ ڈائریکٹر ملک سے باہر ہے اور آف شورکمپنی کا جواب سپریم کورٹ میں دیں گے اور دلیل کے ساتھ آئیں گے۔

خواجہ سعد رفیق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے انہوں نے جے آئی ٹی کو شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے اتنا کام کیا ہے جتنا کوئی مسلسل 24 گھنٹے کام کرکے بھی 2 ماہ میں نہیں کرسکتا تھا۔

وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں لگتاہے کہ اس رپورٹ کی تیاری بہت پہلے سے تھی اور کم ازکم 10 ماہ تو لگے ہوں گے تاہم مسلم لیگ (ن) اپنے دفع میں سپریم کورٹ میں آئے گی اور ٹھوس دلائل دے گی کیوں کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ نوازشریف کی کوئی آف شورکمپنی ہے۔

انہوں نے سابق صدر آصف زرداری اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آج کل اخلاقی جواز کے مامے چاچے بنے ہوئے ہیں جب کہ آصف زرداری کی جماعت اخلاقی جوازکی باتیں کررہی ہے جس پر میں کہتا ہوں کہ بغلیں بجانےاورٹھمکےلگانےکی ضرورت نہیں ہے۔


 وزیراعظم کاکسی آف شورکمپنی میں نام نہیں، اسحاق ڈارکی تردید


انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کےلیے ہم اس جےآئی ٹی کوصفائیاں دے رہے ہیں اور اب میں تقریریں کرنےسےنہیں رکوں گا، اگر تقریرسے روکا گیا تو سیاست چھوڑدوں گا، سیاسی ٹیم کو میدان میں اور قانونی مشیروں کوعدالتوں میں لڑنے دیں۔

سعد رفیق نے کہا کہ ہم عدلیہ کااحترام کرتےہیں اورعدلیہ بحالی تحریک میں بھرپورجدوجہد کی اور پوری امید رکھتے ہیں کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا اور ہماری درخواست اور دلائل کو سنا جائے گا، یہ طوطامیناکی کہانی نہیں تھی،ہمیں امید ہے بیانیہ بدلے گا۔

سعد رفیق نے سربراہ تحریک انصاف عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالا سے چھلانگ لگاتے ہو اور نتھیا گلی چلے جاتے ہو اور بونگیاں مارتے ہیں اس لیے نتھیا گلی سےشہرکی طرف واپس آئیں۔


 جےآئی ٹی کی مفصل رپورٹ پڑھیں  * 


 

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی بیرسٹرظفراللہ نے جے آئی ٹی پر شدید تنقید کی اور جے آئی ٹی کی جانب سے اسحاق ڈار کی رفاحی کاموں کے لیے عطیہ کی گئی رقوم کو ٹیکس شوری کہنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اخلاقیات بھی کچھ چیز ہوتی ہے وہ خیرات کو بھی ٹیکس چوری کہہ رہےہیں اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جےآئی ٹی کی رپورٹ کہیں اورسےلکھی ہوئی آئی ہے جب کہ رپورٹ رکھ کرلگتا ہے یہ دوماہ میں نہیں بلکہ کئی سالوں سے تیارکی جارہی تھی۔

بیرسٹرظفراللہ نے کہا کہ جےآئی ٹی جیسی رپورٹس توروزانہ آتی ہیں کیوں کہ جےآئی ٹی نے اپنے روبرو پیش ہونے والے گواہوں کے جواب پیش نہیں کیے جس کے باعث یہ رپورٹ ناقص اور نامکمل محسوس ہوتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں