site
stats
پاکستان

پیپلز پارٹی نے سندھ کا کباڑہ کردیا ہے، سعد رفیق

لاہور : وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کا کباڑہ کر کے رکھ دیا ہے اس لیے سندھ حکومت کو مذید فری ہینڈ نہیں دیں گے۔

وہ سندھ حکومت کی جانب سے اے ڈی خواجہ کی برطرفی اور آصف علی زرداری کی وفاقی حکومت پر کرپشن کے الزامات پر ردعمل دے رہے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آصف زرداری کرپشن کی بات نہ کریں ان کی خود کئی کہانیاں زبان زد عام ہیں اور سندھ کے عوام کو کرپشن اور بد انتظامی سے بچانے کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنا پورا کردار ادا کرے گی جس کے لیے جلد سندھ کی سرزمین پر اپنا وجود ثابت کریں گے۔

انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی برطرفی پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے کہا کہ چوں کہ آئی جی سندھ میرٹ پر کام کرتے ہیں اور کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑتے اس لئے وہ پیپلز پارٹی کو راس نہیں آتے ہیں کیوں کہ پیپلز پارٹی آئی جی کے عہدے پر گھر کا منشی لگوانا چاہتی ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ بینظیرکی شہادت بہت بڑا المیہ تھا لیکن اس موقع پر سرکاری و غیر سرکاری املاک کو جلانا درست نہیں تھا جس کے نتیجے میں 11 ارب کا نقصان ہوا اور کئی سرکاری دفاتر نذر آتش ہوئے جب کہ نہایت اہم ریکارڈ جل خاکستر ہوئے۔

وفاقی وزیر ریلوے نے اپنے محکمے کے حوالے سے کہا کہ ریلوے کےمسائل ختم کرنےکی ہرممکن کوشش کی ہے جب کہ ماضی میں ریلوے مسائل پر کسی نے توجہ نہیں دی تاہم موجودہ دور میں جنگی بنیادوں پر ریلوے کا نظام بہتر کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ریلوے میں اقرباپروری اور بدانتظامی کےریکارڈ بنائےگئے تاہم اب ریلوےکی حالت بہتر بنانے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں جس کے باعث آئندہ 3 سے 4 سال میں ریلوے میں کوئی پرانا انجن نظر نہیں آئے گا۔

وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعلیٰ کے پی کے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پرویزخٹک معتبر آدمی لگتے ہیں اور انہیں چاہیئے کہ غلط بیانی نہ کریں ہم کس طرح کرنا ریلوے لائن کی زمین انہیں بس کے لیے دے دیں؟

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ حکومت کے ترقیاتی پروجیکٹس سے جلن اور حسد رکھتے ہیں اسی لیے الزام تراشی کرتے ہیں، میں عمران خان کو کہتا ہوں کہ جھوٹ بول کر اور اس طرح کے نعرے لگانے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top